امریکہ نے مشرق وسطی میں جنگ کے نئے رخ کے سامنے آنے کے ساتھ ہی خطے کے لیے مزید ہزاروں کی تعداد میں فوجی نفری بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ نے پیر کے روز بتایا ہے کہ یہ فیصلہ اسرائیلی فوج کی لبنان پر زمینی حملے کی تیاریوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے بھی ایک بیان میں کہہ دیا ہے کہ اس نے چند ہزار کی تعداد میں مزید فوجی علاقے میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے پہلے پینٹاگون کے مطابق خطے میں چالیس ہزار کی تعداد میں امریکی فوجی تعینات ہیں۔ اب اس میں تقریبا آٹھ ہزار فوجیوں کا مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو پہلے سے موجود امریکی فوج کا حصہ بن جائیں گے۔
امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پیر کے روز کہا ' اسرائیلیوں کی طرف سے اپنے کچھ آپریشنز کے بارے میں ہمیں بتایا گیا ہے۔ اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ ان کے یہ آپریشنز سرحد کے قریب حزب اللہ کے جنگی انفراسٹرکچر سے متعلق ہیں جو اسرائیلی آپریشنز میں فوکس پر رہیں گے۔ تاہم ہمارا اسرائیل کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے اور ہم ان کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ہم دیکھ سکیں کہ کیا ہو رہا ہے۔
میتھیو ملر نے کہا ہم یہ مانتے ہیں کہ فوجی دباؤ سفارتی کوششوں کو ممکن بنانے کے لیے بھی اہم ہوتا ہے۔ تاہم یہ بھی درست ہے کہ جنگی حوالے سے بعض اوقات اندازہ غلط ہو جاتا ہے اور مضمرات زیادہ ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہمارا اب بھی اصرار یہی ہے کہ سفارتی کوششیں ہی بہترین راستہ ہوتی ہیں۔
امریکی پینٹاگون کی ڈپٹی پریس سیکرٹری سبرینا سنگھ نے رپورٹرز کے ساتھ بات چیت میں کہا ' امریکی اضافی نفری کی مشرق وسطی میں تعیناتی کے ساتھ اضافی فائٹر جیٹ ایف 15 ای ،ایف 16 اور ایف 22 کے علاوہ اے 10 طیارے علاقے میں بھیجے جا رہے ہیں۔
سبرینا سنگھ نے اس موقع پر وضاحت کی یہ امریکی فوجی نفری علاقے سے امریکی شہریوں کی محفوظ واپسی ممکن بنانے کے لیے نہیں جا ہیی ہے ۔ یہ اپنے پہلے سے موجود فوج کا حصہ بنے گی اور کچھ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالے گی۔ یہی معاملہ فضائیہ کے جنگی فلیٹ کا ہے۔
پینٹاگون کی ڈپٹی پریس سیکرٹری سبرینا سنگھ نے کہا امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے خطے میں اضافی فوجی نفری بھیجنے کا فیصلہ اتوار کو ہی کر لیا تھا۔ کیونکہ حسن نصراللہ کی ہلاکت اور بیروت میں اسرائیلی بمباری کے بعد صورت حال بدل رہی ہے۔ اس لیے اپنے دفاع کی ضرورت کے پیش نظر مزید جنگی طیارے بھی بھیجنا ضروری ہیں۔