ٹرمپ نے کملا کی تصویر کا مذاق کیوں اڑایا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکا کے جنوب مشرق میں آنے والے سمندری طوفان "ہیلن" کے نتیجے میں 110 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ توقع ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 600 تک پہنچ سکتی ہے۔

صدارتی انتخابات کے ریپبلکن امیدوار ڈؑونلڈ ٹرمپ نے پیر کی شام "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنی ڈیموکریٹک حریف امیدوار کملا ہیرس کی ایک تصویر جاری کرتے ہوئے ان کا مذاق اڑایا۔ ٹرمپ نے نائب صدر کملا اور صدر جو بائیڈن پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے طوفان میں غرق ہونے والوں کو تنہا چھوڑ دیا۔

مذکورہ تصویر میں لگ رہا ہے کہ کملا ہیرس ٹیلی فون پر بات کر رہی ہیں۔ ٹرمپ نے تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "ایک امیدوار کی جعلی تصویر جن کو ذرہ برابر خیال نہیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں ... آپ کو ٹیلی فون کا تار جوڑ لینا چاہیے تا کہ وہ کام کرے ! "۔

ٹرمپ کا اشارہ اس جانب تھا کہ کملا نے ایئرفون کو موبائل سے جوڑے بغیر انھیں کانوں میں لگا لیا۔ گویا کہ یہ ایک مصنوعی منظر تھا تا کہ وہ ملک کے جنوبی حصے کے حالات سے با خبر رہنے کا تاثر دے سکیں۔

اسی طرح سابق صدر نے بائیڈن اور کملا پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے افغانستان میں امریکیوں کو لا وارث چھوڑ دیا۔ ٹرمپ کے مطابق "امریکی ہمیشہ سے آخری نمبر پر آتے ہیں کیوں کہ ہماری قیادت کو اس بارے میں معلوم ہی نہیں کہ قیادت کس طرح کی جاتی ہے!"

اس کے جواب میں صدر جو بائیڈن نے ٹرمپ پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا۔ منگل کے روز انھوں نے وائٹ ہاؤس سے ایک مختصر وڈیو جاری کی جس میں وہ صحافیوں کو جواب دے رہے ہیں۔ بائیڈن نے باور کرایا کہ ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں۔

صدر نے زور دے کر کہا کہ وہ ہیلن طوفان کے متاثرین کی مدد کے لیے مقامی ذمے داران کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس میں داخلہ امن کی مشیر الزبتھ شیرووڈ نے پیر کے روز بتایا تھا کہ طوفان میں ہلاکتوں کی تعداد 600 تک پہنچ سکتی ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ 600 افراد لا پتہ ہیں۔

صدر بائیڈن نے اس آفت کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے اپنی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم ضروری اشیاء پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے جن میں غذا، پانی، مواصلات اور بچاؤ کا ساز و سامان شامل ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ سمندری طوفان سے جارجیا اور نارتھ کیرولائنا کی ریاستیں خاص طور پر نقصان کا شکار ہوئی ہیں۔ یہ ان سات ریاستوں میں شامل ہیں جن کو 5 نومبر کے صدارتی انتخابات میں جیت کے لیے فیصلہ کن شمار کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں