بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو مبصرین کے بہت سے تبصروں کے بعد ایگزیٹ پولز میں بھی متنازعہ ریاست جموں و کشمیر اور ہریانہ میں امکانی طور پر انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
دونوں ریاستوں میں بی جے پی کی یہ شکست اس کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں ان ریاستوں میں کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو ایگزیٹ پولز میں کامیابی حاصل کرتے دکھایا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی حکمران جماعت کے خلاف کانگریس کو ایک واضح امکانی برتری شمالی ریاست ہریانہ میں مل سکتی ہے۔ جہاں پچھلے دس سال سے وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت حکمران چلی آرہی ہے۔ تاہم اس سے زیادہ اہم اور زیر بحث رہنے والی شکست متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں بی جے پی کو ملنے جا رہی ہے۔ جیسا کہ ایگزیٹ پولز ظاہر کر رہے ہیں۔
ان ریاستوں میں انتخابی عمل مرحلہ وار بنیادوں پر ہفتہ کے روز تک جاری رہا اور منگل کے روز ان ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔ منگل ہی کے روز نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا ۔ تاہم ایگزیٹ پولز کے ذریعے سامنے آنے والا اندازہ ہفتہ کے روز کی بنیاد پر رپورٹ کیا گیا ہے۔
یہ ایگزیٹ پولز نجی ٹی وی چینلز اور نجی اداروں کی طرف سے منعقد کیے گئے ہیں۔ جن میں بی جے پی کی حالت کانگریس اور اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں کمزور دکھائی گئی ہے۔
ایگزیٹ پولز اس سے پہلے ماہ جون میں ظاہر کر چکے تھے کہ بی جے پی کو عام انتخابات میں بھاری اکثریت مل جائے گی۔ تاہم بعد میں یہ اندازے درست ثابت نہ ہوئے۔
اب دونوں ریاستوں جموں و کشمیر اور ہریانہ میں بھارتی عام انتخابات کے بعد سب سے پہلے ریاستی انتخابات کے انعقاد کی باری آئی ہے۔ آئندہ دنوں میں بھارت کے صنعتی مرکز مہاراشٹرا اور معدنی وسائل سے مالا مال ریاست جھارکنڈ میں نئے انتخابات کا انعقاد ہوگا۔
دونوں ریاستوں میں انتخابات امکانی طور پر ماہ نومبر میں ہوں گے۔ تاہم ابھی باضابطہ تاریخوں کا اعلان کیا جانا باقی ہے۔
متنازعہ ریاست جموں و کشمیر جہاں کچھ دہائیوں کے بعد ریاستی انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکا ہے اس میں بی جے پی کی شکست ہونے کا مطلب واضح ہے کہ کشمیری عوام نے بی جے پی کی حکومت کے آرٹیکل 370 سے متعلق اقدام کو بھی ایک بار پھر جمہوری انداز میں رد کر دیا ہے۔
بی جے پی حکومت نے 5 اگست 2019 کو ریاست جموں و کشمیر کا خصوصی آئینی مرتبہ ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد ریاست جموں و کشمیر میں سخت احتجاج، افراتفری ، ریاستی جبر اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور ہزاروں سیاسی کارکنوں و رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔