امریکہ نے لبنان سے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کرنے کا کہہ دیا: ذرائع

اسرائیلی بمباری میں توسیع جنگ بندی کوششوں کو مسترد کرنے کی علامت ہے: نجیب میقاتی کا واشنگٹن کی درخواست وصولی سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

خبر رساں ادارے رائٹرز نے لبنان کے ایک سینیئر سیاسی ذریعے اور ایک اعلیٰ سطح کے سفارت کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعہ کے روز لبنان میں امریکی ایلچی آموس ہوچسٹین نے اس ہفتے لبنان سے کہا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کردیں۔ یہ اعلان ان کوششوں کے حصے کے طور پر کریں جن کا مقصد مذاکرات کو آگے بڑھانا اور ایک سال سے زائد عرصے سے جاری تنازعہ کو حل کرنا ہے۔

تاہم لبنان کے نگراں وزیر اعظم نجیب میقاتی نے رائٹرز کو ایک بیان میں اس بات کی تردید کر دی ہے کہ امریکہ نے لبنان سے اسرائیل کے ساتھ یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کرنے کو کہا تھا۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی ہے جب نجیب میقاتی نے جمعہ کو کہا کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر بمباری کی توسیع اس کی جنگ بندی کی کوششوں کو "مسترد" کرنے کی علامت یا اشارہ ہے۔ واضح رہے جمعہ کی صبح بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر اسرائیل نے پھر حملے کیے ہیں۔

نجیب میقاتی کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ نجیب میقاتی نے جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی فورس کے کمانڈر انچیف کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ اسرائیل لبنانی علاقوں پر بمباری کا دائرہ ایک بار پھر بڑھا رہا ہے اور اس کے جنوبی نواحی علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ وہ اشارے ہیں کہ اسرائیل کے قرارداد 1701 کے مکمل نفاذ کی تیاری کے لیے جنگ بندی کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کو مسترد کرنے کی تصدیق کرتے ہیں۔

نجیب میقاتی نے مزید کہا کہ لبنان کو موصول ہونے والے اسرائیلی بیانات اور سفارتی اشارے مجوزہ حل کو مسترد کرنے اور قتل و غارت گری کے نقطہ نظر پر اصرار کرنے میں اسرائیلی ضد کی تصدیق کرتے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایلچی اموس ہاکسٹین اور بریٹ میک گرک اسرائیل میں لبنان میں سیاسی حل اور غزہ میں تنازع کے خاتمے کے طریقوں پر بات چیت کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں