ترکیہ اور شام سنجیدگی سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں: روس

آستانہ فارمیٹ میں مذاکرات 2017 میں شروع ہوئے اور 21 ملاقاتیں ہوئی ہیں: روسی وزیر خارجہ لاوروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے تصدیق کی ہے کہ ترکیہ اور شام مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی سنجیدہ خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ماسکو دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے فعال کردار ادا کرے گا۔ لاوروف نے ترک اخبار "حریت" کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ شام کی حکومت اپنی سرزمین سے ترک فوجی یونٹوں کو واپس بلانے کا فیصلہ لینے کی ضرورت پر اصرار کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ اصولی طور پر شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی وابستگی کا اثبات کرتا ہے لیکن وہ اپنی افواج کے انخلا کے معاملے پر بعد میں بات کرنے کی تجویز دے رہا ہے۔ دو دارالحکومتوں میں ہم جلد از جلد مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے فعال طور پر کام کریں گے۔

روسی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شام میں استحکام کے حصول اور مشرق وسطیٰ میں سلامتی کو بڑھانے کے لیے شام اور ترکیہ کے تعلقات کو معمول پر لانے کی بہت اہمیت ہے۔ روس دمشق اور انقرہ کے درمیان اختلافات پر قابو پانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔

یاد رہے اکتوبر میں ترک صدر رجب طیب ایردوان نے شام کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے تعمیری اقدامات کے لیے اپنی خواہش کا اعلان کیا تھا۔ قازان میں انھوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتین سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کریں کہ شامی صدر بشار الاسد انقرہ کے تعلقات کو معمول پر لانے کے مطالبے کا جواب دیں۔

واضح رہے شام میں مسلح تنازع 2011 سے جاری ہے اور آستانہ فارمیٹ میں شام میں کسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے مذاکراتی عمل روس، ترکیہ اور ایران کی پہل کے تحت 2017 میں شروع ہوا تھا۔ اب تک اس فارمیٹ کے تحت 21 اجلاس ہو چکے ہیں۔ آستانہ فارمولے میں شام کے بحران کے حل کے عمل کے ضامن ممالک کے طور پر روس، ایران اور ترکیہ موجود ہیں۔ شامی حکومت، اپوزیشن، اقوام متحدہ، اردن، لبنان اور عراق مبصر ممالک کے نمائندے کے طورپر کام کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں