'انروا' پر اسرائیلی پابندی کے تباہ کن نتائج ہوں گے : فلپ لازارینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی پارلیمنٹ 'کنیسٹ' نے گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی 'انروا' پر پابندی لگائی تھی۔ اس قانون کے نفاذ کا وقت تقریباً تین ماہ متوقع ہے۔ جس سے غزہ و مغربی کنارے میں 'انروا' کے کام کرنے کی صلاحیت محدود تر ہو جائے گی۔

غزہ میں اسرائیلی جنگ سے انسانی صورتحال بدستور خراب ہوتی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی امدادی اداروں نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ اسرائیل امریکی مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

'انروا' سربراہ فلپ لازارینی نے جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران غزہ کی صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتے ہوئے انتباہ جاری کیا ہے کہ 'انروا' پر پابندی کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔

لازارینی نے مزید کہا 'غزہ میں امدادی کارروائیوں پر پابندی سے بین الاقوامی قوانین کو بھی دھچکا لگے کہ جس کے تحت اقوام متحدہ کے ادارے کام کرتے ہیں۔ 'انروا' پر لگنے والی پابندی سے فلسطینیوں کی زندگیوں کو مزید خطرات لاحق ہوں گے۔ نیز خطے کی سالمیت و استحکام کو بھی خطرات ہوں گے۔'

فلپ لازارینی نے کہا 'اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں 43000 سے زائد فلسطینی قتل ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل ہونے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران لازارینی نے کہا ' کنیسٹ میں ہونے والی قانون سازی کے تباہ کن نتائج نتائج ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے تحت انسانی بنیادوں پر ہونے والی امدادی سرگرمیوں پر بھی اس کے تباہ کن اثرات ہوں گے۔'

تعلیم کے سلسلے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا 'انروا' پر پابندی سے ایک پوری نسل کو تعلیم کے حق سے محروم کر دیا جائے گا۔ ان کا مستقبل برباد کر دیا جائے گا۔ نیز مغربی کنارے کے 50000 بچوں کی سکولنگ بھی خطرے میں پڑے گی۔ نیز جنگ زدہ فلسطینیوں کی صحت سے متعلق مزید تباہ کن نتائج بھی سامنے آئیں گے۔

فلپ لازارینی نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے پچھلی درخواستوں کا بھی اعادہ کیا کہ اسرائیلی پابندیوں کو روکنے کے لیے جو کر سکتے ہوں ضرور کریں۔ نیز 'انروا' کے لیے فنڈنگ بھی برقرار رکھیں۔

لازارینی نے اسرائیلی اقدامات کو اقوام متحدہ اور عالمی نظام کے لیے بھی خطرے کا باعث قرار دیا ۔

رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے لازارینی نے کہا 'اسرائیلی قانون کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس کے نفاذ کو روکنے کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا۔ تاہم انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ یہ صرف خواہش پر مبنی سوچ ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں