ترکیہ کی ریاست قونیہ میں کچرے کے ڈبے سے نومولود بچی کی برآمدگی کے بعد ملک میں تشویش کی لہر دوڑ گی۔ یہ بچی ازدواجی تعلقات سے باہر غیرقانونی پیدائش کے مسئلے سے منسلک ہے۔
تفصیلات کے مطابق ریاست قونیہ کے ضلع مارم کے کلوالار علاقے کے رہائشیوں کو ایک بچی ملی، جب انہوں نے کوڑے کے ایک ڈبے کے اندر سے اس کے رونے کی آواز سنی۔ انہوں نے ایمرجنسی سنٹر 112 کے ذریعے سکیورٹی حکام کو اس کی اطلاع دی تو پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی جو بچی کو ساتھ لے گئی۔
پولیس نے بچی کو طبی معائنے کے لیے ریاست قونیا کے ایک ہسپتال منتقل کیا، جس کے نتائج سے معلوم ہوا کہ بچی بالکل ٹھیک ہے اور اس کی حالت مستحکم ہے۔
مارام میں انسدادِ جرائم کی ٹیموں نے محلے کے رہائشیوں سے معلومات اکٹھی کرنے کے بعد ماں کی شناخت کے لیے وسیع پیمانے پر چھان بین شروع کی۔ اس دوران انہیں ایک 28 سالہ خاتون جو ایک غیر ملکی اور پانچ بچوں کی ماں تھی ملی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق بچی کی عمر کچھ دن ہے اور اس کی پیدائش اس کی والدہ کے گھر ہوئی ہے۔
غیرملکی خاتون کو جب گرفتار کیا گیا تو اس نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے بچی کو گھر میں جنم دینے کے بعد کچرے کے ڈبے میں چھوڑ دیا تھا۔ اس نے کہا کہ "میرا شوہر تین سال سے بیرون ملک کام کر رہا ہے۔ اس کی غیر موجودگی کے دوران میں نے کسی دوسرے شخص کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا اور حاملہ ہو گئی۔ مجھے خوف محسوس ہوا لہذا میں نے بچی کی پیدائش کے بعد اس سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا"۔
اس کے بیانات کے اس واقعے نے ترکیہ میں بڑے پیمانے پر غصے کو جنم دیا۔ہ شہریوں نے ایسے واقعات کی تکرار کو روکنے کے لیے آگاہی اور نفسیاتی اور سماجی مدد کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا۔
پولیس ماں سے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اس کے خلاف ضروری قانونی کارروائی کی جائے اور اس کے والد تک پہنچ سکے۔