یورپی ممالک نے یوکرین کو روسی گہرائیوں پر حملہ کرنے کی اجازت دی: جوزپ بوریل
بائیڈن نے یوکرین کو ’اتاکمز‘ میزائل کا استعمال کرتے ہوئے روسی علاقے میں گہرائی تک نشانہ بنانے کی اجازت دی۔
یورپی یونین کے خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے اہلکار جوزپ بوریل نے اعتراف کیا ہے کہ یورپی یونین کے کچھ ممالک نے چپکے سے اپنے ہتھیاروں کو یوکرین کی سرزمین سے روس میں گہرائی میں حملہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
بوریل نے کہا کہ "امریکہ نے روسی سرزمین کے اندر 300 کلومیٹر کی گہرائی میں اپنے ہتھیاروں کے ساتھ حملوں کی اجازت دینے کا ایک اہم فیصلہ کیا۔ دیگر ممالک نے اس کا اعلان کیے بغیر روس کے اندر حملوں پر پابندیاں ہٹا دیں۔ یہ یورپی یونین میں قومی طور پر (ہر ملک کے لیے) ایک اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
اس سے قبل’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے ’اٹاکمز‘ میزائل کا استعمال کرتے ہوئے روسی علاقے کو نشانہ بنانے کی اجازت دی تھی۔ اخبار نے بتایا تھا کہ فرانس اور برطانیہ نے بھی اسکالپ اور سٹارم شیڈو کے ذریعے حملوں کی اجازت دی تھی۔ اس خبر کی سرکاری تصدیق جاری کر دی گئی ہے۔
اس سے قبل آج منگل کو روسی صدر ولادیمیر پوتین نے ایک حکم نامے پر دستخط کیے جس میں ملک کے لیے ایک تازہ ترین جوہری نظریے کی منظوری دی گئی جو کہ موجودہ سیاسی صورتحال سے ہم آہنگ نقطہ نظرہے۔
-
روس نے شمالی کوریا والوں کو تعینات کر کے یوکرین تنازعہ بڑھایا: امریکہ
روس اور شمالی کوریا سے جواب طلبی کے لیے مناسب اقدامات کریں گے: ترجمان امریکی محکمۂ ...
بين الاقوامى -
سوڈان میں فائر بندی کی قرار داد کے خلاف روس کی جانب سے ویٹو کا استعمال
روس نے پیر کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرار داد کو ...
بين الاقوامى -
یوکرین کے شہر سومی پر روسی ڈرون حملے میں ایک بچے سمیت چھ افراد ہلاک: علاقائی حکام
حملہ رہائشی عمارت پر ہوا جہاں کئی افراد موجود تھے
بين الاقوامى