امریکی صدر جو بائیڈن یوکرین کو انسانوں کے خلاف استعمال ہونے والی بارودی سرنگیں فراہم کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ یہ بات ایک امریکی ذمے دار نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتائی۔
امریکی اخبار Washington Postنے نے نام ظاہر کیے بغیر ایک ذمے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ یوکرین نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان سرنگوں کو گنجان آباد علاقوں میں استعمال نہیں کرے گا۔
دوسری جانب کرملن ہاؤس کے ترجمان دمتری بیسکوف نے بدھ کے روز کہا ہے کہ مغرب نے روس کو شکست دینے کے لیے یوکرین کو بطور آلہ استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسی کو دیے جانے والے بیان میں بیسکوف کا کہنا تھا کہ "مغرب کے سیاست دان ہمارے ملک کو تزویراتی شکست سے دوچار کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں ... اور یقینا وہ اپنی چاہت پوری کرنے کے لیے یوکرین کو استعمال کر رہے ہیں"۔
یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی نے منگل کے روز خبردار کیا کہ اگر امریکا نے امداد کا سلسلہ منقطع کیا تو ہم شکست سے دوچار ہو جائیں گے ... اگر ایسا ہوا تو یقینا ہم لڑائی جاری رکھیں گے مگر یہ فتح کے لیے کافی نہیں ہو گا۔ زیلنسکی نے یہ بات امریکی چینل فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
اس سے قبل روس نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ یوکرین نے اس کی سرزمین پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی میزائل داغے ہیں۔ یہ ایک ہزار دن پہلے جنگ شروع ہونے کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہے۔ ماسکو نے ایک بار پھر جوابی کارروائی میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کا کہان ہے کہ یوکرین کا روس پر طویل فاصلے والے میزائلوں سے حملہ لڑائی میں ایک "نیا مرحلہ" ہے۔ انھوں نے اس اقدام پر "مناسب" جواب کی دھمکی بھی دی۔ لاؤروف نے یوکرین اور مغرب پر جارحیت کا الزام بھی عائد کیا۔ انھوں نے مغرب پر زور دیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے روس کے نئے نظریے کی مکمل آگاہی حاصل کر لے۔
ادھر یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کے ذمے دار جوزیپ بوریل کا کہنا ہے کہ یوکرین کا انجام یورپی یونین کا راستہ متعین کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے حوالے سے روس کی دھمکی "غیر ذمے دارانہ" فعل ہے۔
امریکا کی جانب سے یوکرین کو طویل فاصلے کے میزائلوں کے استعمال کی اجازت دینے کے بعد روسی صدر ولادی میر پوتین نے جوہری نظریے میں ترمیم کی منظوری دے دی۔
ترمیم کے بعد نظریہ کہتا ہے کہ کسی ایٹمی طاقت والے ملک کے ساتھ مل کر روس پر کیا جانے والا کوئی بھی روایتی حملہ ،،، روس پر مشترکہ حملہ شمار کیا جا سکتا ہے۔