بشار الاسد دمشق میں ہیں: شامی ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

شامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ صدر بشار الاسد دارالحکومت دمشق میں موجود ہیں اور یہیں سے فوجی اور سیاسی کارروائی کے راستے پر چل رہے ہیں۔ ذرائع نے زور دیا کہ بشار الاسد کی ایران میں موجودگی کے بارے میں گردش کرنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ اس سے قبل جمعرات کی شام کی وزارت اطلاعات نے بشار الاسد کے اقتدار چھوڑنے سے متعلق ایک ویڈیو کی صداقت کی تردید بھی کی تھی اور کہا تھا کہ یہ ویڈیو من گھڑت ہے۔

شامی وزارت اطلاعات نے ’’ ایکس‘‘ پر کہا تھا کہ براہ کرم توجہ دیں اور دہشت گرد تنظیموں سے ہوشیار رہیں جو مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ایک من گھڑت ویڈیو کلپ شائع کر رہے ہیں جس میں صدر بشار الاسد کے استعفیٰ کا اعلان کیا گیا ہے۔

اموات 800 سے زیادہ

واضح رہے ھیئہ تحریر الشام اور ترکیہ کے حمایت یافتہ اس کے اتحادی گروپوں نے 27 نومبر کو اپنے مضبوط گڑھ ادلب سے ملک کے شمال مغرب کی جانب حملہ شروع کیا تھا۔ آبزرویٹری کے مطابق ان لڑائیوں میں اب تک 800 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان مسلح گروپوں نے شامی فوج کے 65 سے زائد فوجیوں اور افسران کو مار ڈالنے کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں