اس میں کوئی شک نہیں کہ شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے 24 سالہ دور نے تمام شامیوں پر منفی اثرات ڈالے لیکن ان کی معزولی پر ان کی خوشی ناقابل بیان ہے۔
مزاحیہ تصویر
العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ٹیم شامی گورنریوں کی سڑکوں کا دورہ کر رہی تھی تو اسے ایسے لطیفے اور قصے دیکھے جو لوگوں کے کئی سالوں سے گذرنے کے ردعمل کا اظہار تھے۔
دمشق کے مضافات میں واقع دوما میں ایک ٹینک کا سبزی اور پھلوں کے اسٹینڈ میں تبدیل ہونا شاید سب سے مزے کا منظر تھا۔ ایسا نہ کبھی ہوا اور نہ ہی اس کی توقع کی جا سکتی تھی۔
یہ تصویر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔
اس میں دکھایا گیا کہ کس طرح سبزی فروش نے اپنی روزی روٹی کی تلاش میں سڑک کے کنارے کھڑے ٹینک پر سبزیوں کے کریٹ منظم انداز میں ایک دوسرے کے اوپر سجا رکھے تھے۔
اس کے علاوہ آٹھ دسمبر کی تاریخ ان کی زندگی میں ایک اہم موڑ بن گئی ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر نہ صرف ان کی گفتگو میں داخل ہو گئی ہے، بلکہ یہ ایک بات چیت کا موضوع بن گئی ہے۔ ان میں سے ایک دوسرے سے کہتا ہے، "میں نے آپ کو اسد رجیم کے سقوط سے قبل ایک پیغام بھیجا تھا، دوسرا شامی جواب دیتا ہے "ہم خدا کی طرف سےاسد کے زوال کے بعد کھو گئے تھے"۔
شام کے مستقبل کی غیر یقینی صورتحال کے باوجود دمشق اور دیگر شامی علاقوں میں خوشی کی لہر چھائی ہوئی جو برسوں سے مشکلات کا شکار ہیں۔
بشارالاسد کا فرار
27 نومبر کو ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ (ھیۃ تحریر الشام اور اس کے اتحادی مسلح دھڑوں) نے حلب اور ادلب گورنریوں میں شامی فوج کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا اور ان کا کنٹرول سنبھال لیا۔ پھر حما اور حمص کی طرف منتقل ہو گئے۔
آٹھ دسمبر کو یہ دارالحکومت دمشق میں داخل ہوئے اور اسی روز صبح 6:18 پر حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا گیا جب سابق صدر بشار الاسد فرار ہو گئے۔