پینٹاگون خاموشی سے شام اور عراق میں مزید فوج اتار رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

امریکی حکام نے حال ہی میں تسلیم کیا ہے کہ وہ شام اور عراق میں اپنی فوج کی موجودگی کے اصل اعداد و شمار کو چھپا رہے ہیں کہ ان دونوں ملکوں میں اصلاً امریکی فوجیوں کی تعداد کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس کی وجہ سفارت اور سلامتی سے متعلق امریکی تشویش ہے۔

پیر کے روز پینٹاگون نے اشارہ دیا ہے کہ عراق میں 2500 کی تعداد میں فوجیوں کا عدد اس اصل تعداد کو ظاہر نہیں کرتا جو وہاں موجود ہیں۔

واضح رہے پچھلے تقریباً ایک سال سے امریکی پینٹاگون کی طرف سے یہی بیان کیا جاتا رہا ہے کہ شام میں اس کے 900 فوجی اور عراق میں 2500 فوجی موجود ہیں جو داعش کے دوبارہ ابھرنے کو روکنے کے لیے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

تاہم حیران کن اطلاع پینٹاگون کے پریس سیکرٹری میجر جنرل پیٹ رائیڈر نے پچھلے ہفتے دی کہ شام میں امریکی فوجیوں کی تعداد پہلے کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہو گئی ہے۔

رائیڈر کا کہنا تھا کہ یہ فوجی عارضی ضرورت کے تحت ہیں۔ تاکہ بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد کی صورتحال کو دیکھا جا سکے۔

پیر کے روز پیٹ رائیڈر نے کہا 'شام میں مزید 1100 فوجیوں کو عارضی طور پر بھیجا گیا ہے۔ تاکہ وہ پہلے سے وہاں موجود اپنے فوجیوں کے تحفظ ، ان کی نقل و حرکت اور دوسری پیدا ہونے والی آپریشنل ضرورتوں کو پورا کر سکیں۔'

تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اضافی عارضی افواج کی شام منتقلی کا عدد مستقل نہیں ہے، لچکدار ہے اور ایسا پچھلے کئی برسوں سے ہو رہا ہے۔ اس تعداد کو اس وقت بڑھا دیا جاتا ہے جب خطرہ بڑھتا ہے۔

پیٹ رائیڈر نے اپنی پچھلے ہفتے والی بات کو دہراتے ہوئے کہا 'سلامتی سے متعلق آپریشنز اور سفارتی ضروریات کے تحت ان اعداد و شمار کو پبلک نہیں کیا جاتا۔ '

عراق کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ عراق میں بھی پہلے سے موجود 2500 فوجیوں کے ساتھ مزید نفری تعینات کی گئی ہے۔ تاہم اپنے سفارتی و سلامتی سے متعلق امور کی حساسیت کی وجہ سے ہم ان فوجیوں کی متعین تعداد سامنے نہیں لائیں گے۔

امریکی حکام کا کہنا تھا کہ فوج کی نفری میں عراق میں کیا گیا اضافہ بھی شام ہی کی طرح ہے کہ عراق میں بھی خطرات بڑھنے کا اندازہ ہے اور یہ سب باتیں باہم جڑی ہوئی ہیں۔

پینٹاگون کے حکام نے اپنے ایک معمول کے اجلاس میں شام و عراق کی صورتحال کا جائزہ لیا اور بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بطور خاص اپنی تشویش کو بڑھا ہوا محسوس کیا۔ کیونکہ ترکیہ اور کرد گروپوں کے درمیان لڑائی کی اطلاعات آرہی ہیں۔

واضح رہے کردوں کے جنگجو گروپوں کو امریکی حمایت حاصل ہے اور وہ عالمی سطح پر امریکہ کے اتحاد کا حصہ ہیں۔ جنہوں نے داعش کو شکست دینے میں امریکہ کی مدد کی ہے۔

اب جبکہ جوبائیڈن کے وائٹ ہاؤس چھوڑنے میں ایک ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، یہ کہنا مشکل ہے کہ امریکی پالیسی آنے والے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی نگرانی میں آگے بڑھ رہی ہوگی یا جوبائیڈن انتظامیہ ہی اسے دیکھ رہی ہے۔

ٹرمپ کی ٹیم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کے روس بھاگنے سے پہلے ٹرمپ کی ٹیم کا کہنا تھا کہ 'ھیتہ التحریر الشام' اور اس کے سربراہ احمد الشرع شام کو چلا نہیں سکیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے شام کے لیے سابق نمائندہ جوئیل ریبرن نے الشرع کے بارے میں کہا کہ 'انہیں تنہائی سے نکلنا ہوگا۔'

ریبرن نے نو دسمبر کو 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں کہا 'الشرع اور ان کی جماعت 'ھیتہ التحریر الشام' دہشت گرد ہے۔ اس لیے شام کے ہمسایہ ممالک اس کی حمایت نہیں کریں گے۔ '

تاہم بعدازاں امریکہ نے 'ھیتہ التحریر الشام' کے سربراہ کے سر کی قیمت کا اعلان واپس لے لیا ہے۔

امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے بارے میں پچھلے دنوں یہ کہا تھا کہ شام میں افراتفری ہے۔ اس لیے امریکہ کو اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہوگا۔ یہ ہماری لڑائی نہیں ہے۔ اس لیے اسے چلنے دیں۔ ہمیں اس میں ملوث نہیں ہونا۔'

تاہم بشار الاسد کے ماسکو فرار ہونے کے بعد ٹرمپ نے کہا 'روس اور ایران کی حالت اب پتلی ہوگئی ہے۔ اس کی وجوہ میں ایک یوکرین ہے اور دوسرا اسرائیل کی کامیاب لڑائی ہے۔ '

واضح رہے ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں کوشش کی تھی کہ شام سے فوجوں کو واپس بلا لیں۔ لیکن بعد ازاں شام اور عراق میں بڑھی ہوئی فوجی تعداد کے ساتھ واشنگٹن نے داعش کے خاتمے کے لیے اگلے سال کی ڈیڈلائن دے دی اور اشارہ دیا کہ اب اسے اگلی انتظامیہ دیکھے گی۔

ادھر عراق جو ایران کی طرف سے بہت دباؤ میں ہے۔ امریکہ سے یہ اصرار کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی فوج کو عراق سے نکالے لیکن بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد صورتحال بدل گئی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے پیر کے روز اس بارے میں اشارہ دیا ہے کہ عراق اب امریکہ سے باضابطہ طور پر اپنی افواج کی موجودگی میں توسیع چاہے گا۔ واشنگٹن پوسٹ نے یہ بات عراق کے ایک ذمہ دار کا حوالہ دیتے ہوئی کہی ہے۔

امریکہ اور شام کے کرد اتحادی

امریکہ کے لیے ایک اور سوال یہ ہے کہ وہ نیٹو کے ایک اتحادی ملک ترکیہ اور شام کے کرد جنگجو گروپوں کے درمیان بیک وقت کس طرح توازن برقرار رکھے۔ کیونکہ ترکیہ ان کرد گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے جبکہ کرد جنگجوؤں کے یہ گروپ امریکہ کے اتحادی اور امریکی حمایت یافتہ ہیں۔

کردستان کی ورکرز پارٹی 'پی کے کے' کو خود امریکہ نے بھی دہشت گردی کی فہرست میں ڈال رکھا ہے۔ مگر 'سیرین ڈیموکریٹک فورس' کو ایسی فہرست میں نہیں ڈالا۔

انقرہ کی طرف سے واشنگٹن کی 'ایس ڈی ایف' کے لیے حمایت پر مسلسل بےچینی ظاہر کی جاتی ہے جو داعش کے خلاف امریکی اتحادی ہے۔

کئی سالوں پر محیط اس اتحاد نے شام میں داعش اور اس کے جنگجوؤں کے خلاف حملے کیے ہیں۔ تاہم 'ایس ڈی ایف' کے خلاف ترکیہ کے بڑے ہوئے حملوں کے بعد 'ایس ڈی ایف' کے رہنما امریکہ پر الزام لگاتے ہیں کہ امریکہ نے اپنے کرد اتحادیوں کو چھوڑ دیا ہے۔

آٹھ دسمبر کو شام میں داعش پر امریکی بمباری کے بعد امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ایرک کوریلا شام گئے اور انہوں نے 'سیرین ڈیموکریٹک فورس' کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں