یورپ کو یوکرین کے راستے روسی گیس کی ترسیل روک دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سال نو کے پہلے روز آج بدھ کی صبح یوکرین کے راستے یورپ جانے والی پائپ لائنوں کے ذریعے روسی قدرتی گیس کی برآمدات رک گئی۔ یہ صورت حال گیس گزرنے سے متعلق سمجھوتے کی مدت پوری ہونے اور ترسیل جاری رکھنے کے لیے ماسکو اور کئیف کے بیچ معاہدے میں ناکامی کے بعد سامنے آئی ہے۔

روسی گیس کے یورپ تک گزرنے کے سب سے پرانے راستے کی بندش کی وجوہات میں ماسکو اور کئیف کے بیچ تعلقات میں کشیدگی بنیادی عامل ہے۔ یہ کشیدگی 2014 میں روس کی جانب سے جزیرہ نما قرم پر قبضے کا نتیجہ ہے۔

یوکرین کے وزیر توانائی جیرمن گیلوشینکو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "ہم نے روسی گیس کا گزر روک دیا ہے۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے، روس اپنی منڈیوں سے ہاتھ دھو رہا ہے اور مالی نقصان اٹھائے گا۔ یورپ پہلے ہی روسی گیس سے دست برداری کا فیصلہ کر چکا ہے"۔

یورپ کے لیے پائپ لائنوں کے ذریعے روسی گیس کی برآمدات کے مجموعی حجم میں سے تقریبا آدھا حصہ یوکرین کے راستے جاتا ہے۔

روسی گیس خریدنے والے بعض ممالک مثلا سلوواکیا اور آسٹریا نے پہلے ہی متبادل انتظام کر لیا تھا۔ مولدووا جو پہلے سوویت یونین کا حصہ تھا، اس کا کہنا ہے کہ وہ اس صورت حال کے سبب سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ہے۔ مولدووا کے مطابق اب وہ اپنے گیس کے استعمال کا حجم ایک تہائی تک کم کرنے کی تدابیر اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔

روسی گیس کا گزر رک جانے سے روس کو 5 ارب ڈالر اور یوکرین کو 80 کروڑ ڈالر سالانہ کا نقصان ہو گا۔

یورپ میں گیس کی مارکیٹ کا 35% حصہ روس کے پاس ہے۔ تاہم یوکرین جنگ نے اس حجم کو بھرپور طریقے سے متاثر کیا ہے۔
سال 2023 میں روس نے یوکرین کے راستے 15 ارب مکعب میٹر قدرتی گیس یورپ پہنچائی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں