امریکہ کا اسرائیل کے ساتھ آٹھ ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کا معاہدہ

اسلحے میں توپ خانے کے گولے اور میزائل شامل، ایوان اور سینیٹ کی کمیٹیوں سے منظوری درکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کو آٹھ بلین ڈالر کے اسلحے کی فروخت کے بارے میں امریکی کانگریس کو غیر رسمی طور پر مطلع کیا ہے جس میں لڑاکا طیاروں اور حملہ آور ہیلی کاپٹروں کے لیے گولہ بارود شامل ہے۔ ایگزیاس نے دو ذرائع کے حوالے سے جمعہ کو اس بات کی اطلاع دی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اس معاہدے کو ایوان اور سینیٹ کی کمیٹیوں سے منظوری درکار ہوگی اور اس میں ڈرون جیسے خطرات سے دفاع کی غرض سے لڑاکا طیاروں کے لیے توپ خانے کے گولے اور ہوا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل شامل ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے تبصرہ کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

ایگزیاس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا، "صدر نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق اپنے شہریوں کا دفاع کرنے اور ایران اور اس کی پراکسی تنظیموں کی جارحیت کو روکنے کا حق حاصل ہے"۔

ایگزیاس کے مطابق پیکیج میں چھوٹے قطر کے بم اور وار ہیڈز بھی شامل ہیں۔

غزہ میں اسرائیل کی 15 ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔ صدر جو بائیڈن 20 جنوری کو عہدہ چھوڑنے والے ہیں جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ ان کی جگہ سنبھالیں گے۔

واضح رہے کہ حماس کے زیرِ انتظام علاقے کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی بربریت سے غزہ میں کم از کم 45,658 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں