لبنان : فائر بندی کے بعد پہلی مرتبہ بعلبک کے اطراف اسرائیل کے حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے اتوار کی شب لبنان کے مشرقی شہر بعلبک کے اطراف بم باری کی۔ بم باری میں جنتا قصبے کو نشانہ بنایا گیا۔ نیشنل میڈیا ایجنسی کے مطابق 27 نومبر کو حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہونے کے بعد یہ بعلبک کے اطراف اسرائیل کا پہلا حملہ ہے۔ حملے میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

ادھر العربیہ نیوز کی نامہ نگار کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حومین الفوقا قصبے کے اطراف حملہ کیا۔ اسرائیلی فوج کے ریڈیو کا کے اعلان کے مطابق حملے میں لبنان میں حزب اللہ کے زیر انتظام ٹولیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے نے واضح کیا کہ فوج نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ہتھیاروں کے گودواموں کو نشانہ بنایا۔

العربیہ کے نمائندے نے مزید بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے لبنانی دار الحکومت بیروت کی فضاؤں میں پرواز کی۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق جمعے کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی حملے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ اگرچہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی نافذ العمل ہوئے ایک ماہ سے زیادہ گزر چکا ہے۔ وزارت صحت نے بتایا کہ طیر دبا قصبے پر ہونے والی اس بم باری میں چار افراد زخمی بھی ہوئے۔ ادھر اسرائیل فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک ٹرک پر حملہ کیا جو حزب اللہ کے لیے راکٹ لے کر جا رہا تھا۔

یاد رہے کہ 8 اکتوبر 2023 سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی کے بعد 27 نومبر 2024 کو فائر بندی نافذ العمل ہوئی۔ یہ لڑائی گذشتہ برس ستمبر میں ایک تباہ کن جنگ کی صورت اختیار کر گئی تھی۔

فریقین ایک دوسرے پر جنگ بندی کی بار ہا خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہیں۔

امریکی وساطت سے طے پانے والے معاہدے میں یہ تحریر ہے کہ اسرائیلی فوج ساٹھ روز کی مہلت کے اندر ان علاقوں سے نکل جائے گی جہاں وہ داخل ہوئی تھی۔ یہ مدت 26 جنوری کو ختم ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی لبنانی فوج اور یونیفل فورس یہ دونوں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کی جگہ تعینات ہوں گی۔
معاہدے کے تحت حزب اللہ کو اپنی فورس دریائے لیطانی کے شمال میں لے جانا ہو گی جو اسرائیل کی سرحد سے تقریبا 30 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے عسکری بنیادی ڈھانچے کو ختم کر دے گی۔

معاہدے کے تحت پانچ رکنی کمیٹی سمجھوتے کی شقوں کی پاسداری اور ہر فریق کی جانب سے خلاف ورزی کی اطلاع کی نگرانی کرے گی۔ یہ کمیٹی امریاک، فرانس، لبنان، اسرائیل اور یونیفل پر مشتمل ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے اتوار کے روز حزب اللہ پر الزام عائد کیا کہ وہ فائر بندی معاہدے کی شرائط کی پاسداری نہیں کر رہی ہے۔ کاتز نے خبردار کیا کہ یہ صورت حال جاری رہی تو ان کا ملک "حرکت میں آنے پر مجبور" ہو جائے گا۔

لبنانی حکام کے مطابق آٹھ اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والے تنازع کے نتیجے میں چار ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے، ان میں اکثریت ستمبر 2024 میں موت کا شکار ہوئی۔ بعض افراد جنگ بندی کے نفاذ کے بعد ہلاک ہوئے۔ معلوم رہے کہ اس تعداد میں جنگجوؤں کی ہلاکتیں شامل نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں