ہر سمت موت کا راج، ٹرمپ لاس اینجلس کے سیاستدانوں پر پھر برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس میں لگنے والی آگ مسلسل چھٹے روز بھی جاری ہے، متاثرین کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس بار انہوں نے شہر کے سیاست دانوں پر اپنی تنقید کے تیر چلائے، جنہیں انہوں نے نااہل قرار دیا۔ "لاس اینجلس میں آگ اب بھی جل رہی ہے اور نااہل سیاست دانوں کو اندازہ نہیں ہے کہ اسے کیسے بجھایا جائے"۔ انہوں نے یہ بیان اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا۔

ہر سو موت پھیل رہی ہے

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ "ہزاروں شاندار گھروں کے غائب ہونے کے بعد مزید گھروں کو نقصان پہنچے گا"۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "ہر طرف موت پھیل رہی ہے۔" اس آگ کو ریاستہائے متحدہ کی تاریخ کی بدترین آفات میں سے ایک سمجھا جانا چاہیے‘‘۔

انہوں نے استفسار کیا کہ " کیاوہ آگ نہیں بجھا سکتے۔ اس میں کیا رکاوٹ ہے؟!"

ٹرمپ نے اس سے قبل کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے اس آفت سے نمٹنے میں گورنر کی کارکردگی کا مذاق اڑایا تھا۔

اگرچہ آگ کے ماخذ کو جاننا بہت قبل از وقت ہے، تاہم حکام کو ان کی تیاری اور ردعمل کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب فائر فائٹنگ ٹینکوں کے خالی ہونے کے بعد پیسیفک پیلیسیڈس کے علاقے میں جنگل کی آگ تیزی سے پھیلی اور اسے روکا نہیں جا سکا۔

قابل ذکر ہے کہ ان آتشزدگیوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ج 16 تک پہنچ گئی تھی۔

جبکہ فائر عملہ کا تخمینہ ہے کہ گزشتہ منگل سے اب تک پالیساڈس کے پڑوس میں 5,300 سے زیادہ گھر تباہ ہو چکے ہیں۔

لاس اینجلس کاؤنٹی فائر ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایٹن آگ میں 7000 سے زیادہ ڈھانچے تباہ ہو سکتے ہیں۔

دریں اثنا فائر چیف انتھونی مارونی نے کل رات خبردار کیا کہ تیز ہواؤں، خشک موسم اور پودوں کی وجہ سے آگ کا خطرہ زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں