ٹرمپ کی حلف برداری پر 200 ملین ڈالر لاگت، نیتن یاہو کی جگہ ان کی بیوی کو مدعو کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پیر کو صدر کے طور پر ٹرمپ کے حلف برداری کی تقریبات پر $200 ملین سے زیادہ لاگت آئے گی۔ اس تقریب میں سابق صدور بائیڈن، اوباما، بش اور کلنٹن اور ان کی بیویاں موجود ہوں گی۔ جن غیر ملکی سربراہوں کو مدعو کیا گیا ہے ان میں نیتن یاہو کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ ان کی جگہ ان کی بیوی سارہ اور بیٹے یائر کو مدعو کیا گیا ہے۔ یہ دونوں میامی میں موجود ہیں۔

تاہم ان دونوں کی حاضری کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ کئی امریکی میڈیا آؤٹ لیٹس نے تقریب کی تفصیلات بتائی ہیں۔ اتوار کو واشنگٹن کے سینٹ جان چرچ میں صبح کی روایتی دعا کے ساتھ تقریب شروع ہوگی ۔ اس کے بعد نو منتخب صدرٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا میلانیا صدر جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ جِل کے ساتھ گھر میں چائے پینے کے لیے شریک ہوں گی۔

مقامی وقت کے مطابق دوپہر کو ٹرمپ کے نائب جے ڈی وینس کیپیٹل کی عمارت میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس کے سامنے آئینی حلف اٹھا ئیں گے۔ اس کے بعد ٹرمپ نے اپنا بایاں ہاتھ صدر ابراہم لنکن کی بائبل کی کاپی پر رکھ کر حلف لیں گے۔ یہ کاپی وہ ہے جسے 1861 میں ریاستہائے متحدہ کے سولہویں صدر نے اپنے افتتاح کے دوران استعمال کیا تھا۔ ٹرمپ نے اسے 2017 میں بھی استعمال کیا تھا اور اوباما نے اسے اپنے افتتاح کے دوران استعمال کیا تھا۔ اس کے بعد ٹرمپ افتتاحی تقریر کریں گے۔

ہر منتخب صدر نے اپنی اپنی افتتاحی تقریر کا دورانیہ الگ رکھا ہے۔ پہلے صدر جارج واشنگٹن نے مختصر ترین تقریر کی تھی۔ یہ 135 الفاظ کی تقریر تھی۔ ولیم ہنری ہیریسن کے پاس سب سے طویل تقریر کا ریکارڈ ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ تقریر 8,445 الفاظ پر مشتمل تھی۔ وہ ایک ماہ بعد نمونیا کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے۔ انہیں نمونیہ افتتاحی تقریب کے دوران طویل عرصے تک برفانی موسم میں رہنے کی وجہ سے ہوا تھا۔

تقریب کے پلیٹ فارم میں ٹیکنالوجی سے متعلق بڑے نام بھی شامل ہوں گے۔ ایلون مسک، مارک زکربرگ، اور جیف بیزوس، ٹم کک، سندر پچائی، شوزی چیو مہمانوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

اسرائیل مخالف امام کی تقریر

ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے ٹرمپ نے سابق اصولوں کو توڑتے ہوئے غیر ملکی رہنماؤں کو مدعو کیا ہے جو افتتاحی تقاریب کی سفارتی سیاست سے بچنے کی کوشش کرتے تھے۔ انہوں نے یشا کونسل کے ارکان کو بھی مدعو کیا جو اسرائیلی بستیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ انہوں نے امریکی یرغمالیوں اور 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کے متاثرین کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی ہے۔ اس تقریب میں مشیل اوباما غیر حاضر ہوں گی۔ انہوں نے اپنے خاندان کو خطرے میں ڈالنے پر ٹرمپ پر عوامی سطح پر تنقید کی ہے۔ ایوان نمائندگان کی سابق سپیکر نینسی پیلوسی نے بھی تقریب میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حسب روایت افتتاحی تقریب میں مذہبی رہنماؤں کی موجودگی ہوگی۔ پہلی مرتبہ ایک امام، ایک پادری اور ایک ربی حاضرین سے خطاب کے لیے شامل ہوں گے۔ ٹرمپ نے تقریب میں تقریر کرنے کے لیے ڈیئربورن، مشی گن سے امام ہشام الحسینی کا انتخاب کیا ہے۔ ہشام الحسینی عراقی نژاد امریکی کمیونٹی کے ترجمان اور اسرائیل مخالف بیانات دینے کے حوالے سے معروف ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں