امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی شام جب واشنگٹن کے نیشنل کیتھیڈرل میں "بشپ" ماریان بڈی کی تقریر سنی تو ایسا لگا کہ کہ بشپ کی اپیل نے ان کو طیش دلا دیا تھا۔
ٹرمپ نے بدھ کے روز اس بشپ پر تنقید کے تیر برسانا شروع کر دیے۔ سماجی رابطے کے نیٹ ورک ’’ٹروتھ سوشل‘‘ کے اپنے اکاؤنٹ پر ٹرمپ نے بشپ ماریان بڈی پر سخت ترین الفاظ میں تنقید کی ہے۔
ایک پوسٹ میں جس میں بعض اوقات فحش الفاظ بھی استعمال ہوئے ٹرمپ نے اس خاتون بشپ پر تنقید کی ۔ خاتون بشپ نے ٹرمپ سے کمزوروں اور تارکین وطن کے ساتھ ساتھ ٹرانس جینڈر لوگوں کے لیے رحم اور شفقت کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
بے وقوف اور ناکام
ٹرمپ نے اسے ’’ناگوار اور اپنے کام میں ناکام" اور احمق تک قرار دے ڈالا۔ امریکی صدر نے کہا کہ اس نے چرچ کو سیاسی معاملات میں ملوث کیا اور ان ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کے ذکر کرنے کو نظر انداز کر دیا جو ملک میں آئے اور قتل کا ارتکاب کیا۔ آئینی حلف اٹھانے والے ہر امریکی صدر کے رواج کے مطابق ٹرمپ نے پیر کو حلف اٹھانے کے بعد منگل کو نیشنل کیتھیڈرل میں ایک بین المذاہب دعا میں شرکت کی تھی۔ اس تقریب کے مقررین میں بشپ ماریان بڈی شامل تھیں۔
ماریان بڈی نے پوڈیم سے اپنی تقریر میں ٹرمپ اور ان کے نائب صدر جے ڈی وینس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس، ریپبلکنز اور لبرلز کے خاندانوں میں ہم جنس پرست اور ٹرانس جینڈر بچے موجود ہیں اور ان میں سے کچھ کو اپنی جان کا خوف ہے۔
بشپ بڈی نے ٹرمپ سے کہا کہ وہ ان غیر قانونی تارکین وطن بچوں کا خیال رکھیں جنہیں خوف ہے کہ ان کے والدین کو ان سے الگ کردیا جائے گا۔ اس دوران کیمرے کے لینز نے امریکی صدر کے چہرے کے تذبذب کے تاثرات کو قید کر لیا تھا۔
اپنی انتخابی مہموں کے دوران ٹرمپ نے بار بار نام نہاد "ووک" لہر پر تنقید کی جسے ڈیموکریٹس کی طرف سے وسیع پیمانے پر حمایت حاصل ہے۔ اس مہم کا ایک بڑا حصہ دیگر موضوعات کے علاوہ ہم جنس پرستوں اور ٹرانس جینڈر لوگوں کی حمایت کے گرد گھومتا ہے۔ منگل کو ٹرمپ کی انتظامیہ نے تمام تنوع، مساوات، اور شمولیت والے ملازمین کو وفاقی حکومت میں فارغ کرنے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔