جرمنی میں بچوں کو چاقو گھونپنے والا افغانی گرفتار، واقعے پر ملک میں شدید غم وغصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اطلاعات کے مطابق جرمنی میں ایک مشتبہ شخص کے چاقو سے حملے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

العربیہ اور اس کے برادر چینل الحدث کے نامہ نگار کے مطابق جرمن قصبے اسکافنبرگ میں چاقو سے حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے، جن میں ایک دو سالہ بچہ اور ایک 41 سالہ شخص شامل ہے۔ اس واقعے میں متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔

جرمن پولیس نے کہا کہ انہوں نے ملزم جو ایک افغانی بتایا جاتاہے کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس کی عمر 28 سال ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ مجرم نے بچوں کے ایک گروپ کا پیچھا کیا جو کنڈرگارٹن کے دو اساتذہ کے ساتھ تھے اور انہیں چاقو مارا۔

پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایک 41 سالہ شخص اور ایک 2 سالہ بچہ شدید زخمی ہیں۔

پولیس نے کہا کہ افغان باشندے کے علاوہ کسی مشتبہ شخص کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں ملا اور نہ ہی عوام کو کوئی خطرہ ہے۔

ملزم منشیات کے دھندے میں ملوث

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ جرمن پولیس نے اسکافنبرگ میں چاقو کارروائی کی وضاحت کی ہے کہ ملزم منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث رہا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ جس قصبے میں چاقو مارا گیا تھا وہ میونخ سے چند گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔ ملزم کو ایک عوامی پارک میں گرفتار کیا گیا تھا، جو کہ منشیات فروشوں کے جمع ہونے کے لیے جانا جاتا ہے۔

جرمن میڈیا کے مطابق آپریشن شروع ہونے کے چند منٹ بعد ہی ختم ہو گیا جب کہ اب تک اس کے پیچھے دہشت گردی کے کوئی مقاصد نہیں دیکھے گئے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق کریمنل پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ جس پارک میں یہ جرم ہوا وہ منشیات فروشوں کے لیے جانا جاتا ہے اور وہاں پولیس پہلے سے تعینات ہے۔

چاقو کے حملے نے جرمنی میں پرتشدد حملوں کے ایک سلسلے میں اضافہ کیا ہے جس نے 23 فروری کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل سکیورٹی اور امیگریشن کے حوالے سے تناؤ کو جنم دیا ہے۔

20 دسمبر کو شہر میگڈبرگ میں کرسمس مارکیٹ میں کار سوار حملے کے بعد ایک ڈاکٹر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس حملے میں چھ افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں