انروا ایجنسی کو جمعرات تک بیت المقدس سے جانا ہو گا : اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینون نے فلسطینی پنا گزینوں سے متعلق امدادی ایجنسی "انروا" کو بیت المقدس میں اپنی سرگرمیاں روکنے اور تمام زیر استعمال عمارتیں خالی کر دینے کے لیے جمعرات 30 جنوری تک کی مہلت دی ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو بھیجے گئے ایک تحریری خط میں سامنے آئی ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی پارلیمنٹ نے اکتوبر 2024 میں ایک قانون کی منظوری دی تھی جس کی رو سے اسرائیل میں اقوام متحدہ کی ایجنسی "انروا" کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ پابندی کا اطلاق 1967 سے زیر قبضہ مشرقی بیت المقدس پر بھی ہو گا۔

ڈینی ڈینون کے مطابق انروا ایجنسی نے شفافیت اور غیر جانب داری کے حوالے سے بنیادی پاس داری کا دامن چھوڑ دیا جس کی درستی ممکن نہیں۔

اسرائیل کے نزدیک انروا کی سرگرمیوں کو اقوام متحدہ کے زیر انتظام دیگر ایجنسیوں کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ تاہم اقوام متحدہ اس موقف کو دہراتی ہے کہ انروا سے بے نیازی ممکن نہیں بالخصوص ایجنسی کی جانب سے فلسطینیوں کو پیش کی جانے والی بنیادی خدمات میں جن میں صحت اور تعلیم شامل ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ گذشتہ اتوار کے روز اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک غزہ کی پٹی میں 4200 سے زیادہ امدادی ٹرک داخل ہو چکے ہیں۔ تاہم جمعے کے روز داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد میں واضح کمی آئی۔

انسانی امور سے متعلق رابطہ کاری کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر کے مطابق جمعے کے روز 339 امدادی ٹرک داخل ہوئے۔ یہ بات اسرائیل کے علاوہ جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے ممالک امریکہ، مصر اور قطر نے بتائی۔

اسے قبل گذشتہ اتوار کے روز غزہ کی پٹی میں 630 ٹرک ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں پیر کو 915، منگل کو 897، بدھ کو 808 اور جمعرات کو 653 ٹرک داخل ہوئے۔

فائر بندی کے بعد پہلے مرحلے میں غزہ کی پٹی میں روزانہ 600 امدادی ٹرکوں کی ضرورت ہے جن میں 50 ٹرک ایندھن کے ہیں۔ یہ مرحلہ چھ ہفتوں تک جاری رہے گا۔

انسانی امور سے متعلق رابطہ کاری کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر کی ترجمان ایری کانیکو کے مطابق اقوام متحدہ اور انسانی شعبے میں دیگر شراکت دار غزہ کی پٹی کے مختلف حصوں میں تقریبا 21 لاکھ افراد کو امداد کے اس بڑے حجم کو جلد از جلد بھیجنے اور تقسیم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں