آج 110 فلسطینیوں کی رہائی متوقع ... کیا مروان البرغوثی شامل ہوں گے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل کے ساتھ فائر بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت آج جمعرات کے روز حماس کی جانب سے غزہ کی پٹی میں سات اکتوبر 2023 سے یرغمال افراد میں 3 اسرائیلی اور 5 تھائی شہریوں کی آزادی متوقع ہے۔ اس کے مقابل اسرائیلی جیلوں میں قید 110 فلسطینی رہا کیے جائیں گے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق جن تین اسرائیلیوں کو رہا کیا جائے گا ان میں اربیل یہود (29 سالہ) ، اگام بیرگر (20 سالہ) اور گادی موزیز (80 سالہ) شامل ہیں۔

ادھر یہ سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ آیا فتح موومنٹ سے تعلق رکھنے والے فسلطینی رہنما مروان البرغوثی اور "عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین" کے سربراہ احمد سعدات کے اس دفعہ کی کھیپ میں یا معاہدے کے دوسرے مرحلے میں شامل ہونے کا امکان ہے۔

ایک اسرائیلی ذریعے نے بتایا تھا کہ حماس تنظٰیم نے البرغوثی اور سعدات کے گھرانوں سے دوسرے مرحلے میں ان افراد کی رہائی کا وعدہ کیا ہے۔ یہ بات اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتائی۔

ذریعے نے مزید بتایا کہ حماس تنظیم ایک تزویراتی منصوبہ تیار کر رہی ہے جس کا مقصد صدر محمود عباس کے اپنے منصب سے رخصت ہونے کے بعد مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

البتہ اسرائیلی ذریعے نے البرغوثی کی رہائی کو خارج از امکان قرار دیا۔ ذریعے نے واضح کیا کہ اگر حماس تنظٰیم البرغوثی کی رہائی کو یقینی بناتی ہے تو فتح موومنٹ کے رہنما اپنی آزادی کے حوالے سے حماس کے قرض دار رہیں گے۔

مغربی کنارے کے ایک دفتر میں مروان برغوتی کی تصویر۔
مغربی کنارے کے ایک دفتر میں مروان برغوتی کی تصویر۔

رواں ماہ ایک فلسطینی ذریعے نے اشارہ دیا تھا کہ حماس نے پانچ "سینئر قیدیوں" کی فہرست تیار کی ہے جن کی رہائی وہ معاہدے کے آئندہ مرحلوں میں چاہتی ہے۔ ان میں مروان البرغوثی اور حماس کے چار ارکان شامل ہیں۔ تاہم اس فہرست میں سعدات کا نام شامل نہیں ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے سعدات اور البرغوثی کو 2002 میں گرفتار کیا تھا جب دوسری انتفاضہ تحریک اپنے زوروں پر تھی۔

احمد سعدات (72 سالہ) کو 2008 میں 30 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان پر 2001 میں اسرائیل کے وزیر سیاحت رعبعام زئیفی کو ہلاک کرنے کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔

مروان البرغوثی (64 سالہ) کو 2004 میں عمر قید کی پانچ سزائیں سنائی گئی تھیں۔ ان پر دوسری انتفاضہ تحریک کے دوران میں تین حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔ ان حملوں میں پانچ اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔

مروان برغوثی
مروان برغوثی

البرغوثی فلسطینیوں کی اکثریت کے بیچ عوامی سیاسی علامت سمجھتے جاتے ہیں۔

وہ آئندہ ممکنہ فلسطینی انتخابات میں جیت کے لیے مرکزی صدارتی امیدوار شمار ہوتے ہیں۔

ابھی تک غزہ معاہدے کے تحت سات اسرائیلیوں اور ان کے مقابل 290 فلسطینیوں کی آزادی عمل میں آ چکی ہے۔in

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں