امریکی محکمہ دفاع نے شام سے افواج کو نکال کر دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کی مختلف تجاویز کی تیاری شروع کر دی ہے۔ یہ بات ' این بی سی نیوز ' نے بدھ کے روز رپورٹ کی ہے۔
' این بی سی ' نے ایک حیران کن رپورٹ جاری کی ہے۔ جس میں امریکی افواج کی شام سے منتقلی کے بارے میں نیا انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ جس نے حال میں اپنی شام میں فوج کی نفری میں اضافہ کیا تھا اب یہاں سے فوج نکالنے پر غور شروع کر چکی ہے۔
اس رپورٹ کے بارے میں صدر ٹرمپ اور ٹرمپ انتظامیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے اس سے جڑے حکام نے حال ہی میں اس امر میں دلچسپی ظاہر کی ہے کہ شام میں اب فوج کو مزید رکھنے کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے امریکی پینٹاگون نے تین مختلف آپشنز کو سامنے رکھتے ہوئے تجاویز کی تیاری شروع کر دی ہے۔
ان تجاویز میں شام سے فوج کی صرف 30 دنوں میں منتقلی، 60 دنوں میں منتقلی کا منصوبہ اور 90 دنوں میں شام سے فوج کو نکال لے جانے کا منصوبہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان تینوں آپشنز کو پیش نظر رکھتے ہوئے تیاری کی جارہی ہے۔
تاہم ابھی اس بارے میں تصدیق ہونا باقی ہے کہ شام میں تعینات فوج کی اگلی منزل واضح طور پر امریکہ ہو گا یا کوئی قریبی سرزمین اس کے لیے منتخب کی جائے گی تاکہ نقل و حمل کے از سر نو امریکہ سے اخراجات اور سٹریجی کی ضرورت میں وقت کے چیلنج سے بچا جا سکے۔
دریں اثنا شام میں موجود امریکی حمایت یافتہ کرد گروپوں پر مشتمل 'سیریئن ڈیمو کریٹک فورس ' کو امریکہ کی طرف سے کوئی باقاعدہ اطلاع نہیں کی گئی ہے۔ 'ایس ڈی ایف' کے ذرائع کے مطابق ہم نہیں جانتے کہ امریکہ نے شمالی شام اور مشرقی شام سے اپنی فوج نکال لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ یہ جانتے ہیں کہ داعش اور اس کی بد نیت فورسز یہ انتظار ضرور کر رہی ہیں کہ امریکی فوج شام سے جلد از جلد نکل جائے۔
کرد ' ایس ڈی ایف ' کے ترجمان فرہاد شامی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ' 2014 میں جب داعش کا عروج تھا تو داعش نے علاقے پر اپنی دہشت مسلط کر رکھی تھی۔ عراق اور شام دونوں جگہوں پر اس کی کارروائیاں جاری تھیں۔
تاہم ' این بی سی ' کا کہنا ہے کہ اسے محکمہ دفاع کے دو مختلف حکام سے یہ انکشاف انگیز رپورٹ ملی ہے۔' جس کا مطلب ہے شام میں فوج کو رکھنے کی اب اتنی ضرورت نہیں رہی ہے۔