سعودی عرب میں ’ای ویزہ‘ کے بارے میں یہ اہم معلومات جنہیں ہر کوئی جاننا چاہتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

سعودی عرب نےسیاحت کے شعبے میں مملکت کو ایک بااثر سیاحتی ملک کے طور پر متعارف کرانے کئی سہولیات اور سروسز فراہم کی ہیں۔ مملکت نے گذشتہ سال تقریباً 60 ملین سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

یہ بھی واضح ہے کہ کچھ دوسرے ممالک کے شہری اپنی ذاتی پسند کے لیے مملکت کا دورہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، کچھ کام کرنے آتے ہیں۔ بعض یہاں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ چھٹیاں گزارتے ہیں۔ دیگر ممالک کے پاس سعودی عرب کے شہروں میں تعلیم
کے حصول کےلیے مواقع موجود ہیں۔ اس طرح ان مذکورہ شعبوں میں 68 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزہ جاری کیا گیا۔

سعودی عرب جانے کے خواہشمند خصوصی شرائط کو پورا کرنے کے بعد الیکٹرانک ویزا کے لیے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔ اس کے لیے کچھ شرائط ہیں۔سعودی عرب میں داخلے کی تاریخ کے وقت پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے کم از کم 6 ماہ کا وقت باقی ہو۔ درخواست دہندہ کی ذاتی تصاویر کے ساتھ ویزہ کی درخواست کا فارم آن لائن پُر کریں۔ آن لائن فارم پر کرتے ہوئے انہیں پاسپورٹ ڈیٹا اور دیگر ذاتی معلومات کو درست انداز میں دینا ہوں گی۔

تین مراحل

تین مراحل میں ملک کا دورہ کرنے کا خواہشمند شخص ویزہ کے لیے درخواست دیتا ہے، کیونکہ اسے الیکٹرانک ویزہ درخواست فارم پُر کرنا، ذاتی ڈیٹا مکمل کرنے کے بعد سعودی الیکٹرانک ویزا فیس آن لائن ادا کرنا ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ سعودی ویزہ ویب سائٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اگر درخواست گذار کی عمر 18 سال سے کم ہے تو اسے اس کے سرپرست یا والدین کی طرف سے درخواست دینا ہوگی۔

سعودی ای ویزا درخواست کا عمل 68 ممالک کے غیر ملکی درخواست دہندگان کو اپنے پاسپورٹ کی تفصیلات الیکٹرانک درخواست فارم میں جمع کرانے، فیس آن لائن ادا کرنے کے بعد ای میل کے ذریعے جاری کیا جائے گا۔

اسی تناظر میں خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے باشندے بھی سعودی ای ویزہ کے لیے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔تاہم اس کے لیے ضروری ہے وہ کم سے کم 3 ماہ کے لیے جی سی سی کا اقامہ رکھتے ہوں۔

ویزہ کی مدت

ایک بار جب سعودی ویزہ کی درخواستیں ویب سائٹ کے ذریعے جمع کر دی جائیں تو، درخواست دہندہ کو 24 گھنٹے کے اندر اپنے ذاتی ای میل کے ذریعے
جواب موصول ہو جائے گا، کیونکہ الیکٹرانک ویزہ کو تیز رفتاری سے پروسیسنگ کیا جاتا ہےجب کہ یہ ایک سال تک کارآمد رہتا ہے۔اس سے زائرین کو سعودی عرب میں زیادہ سے زیادہ 90 دن قیام کرنے کی اجازت ملتی ہے۔

ویزہ کی قیمتیں

دریں اثنا ویزہ کی سب سے زیادہ مقبول قسم سیاحتی ویزا ہے، جب کہ سعودی ٹورسٹ ویزا کی فیس درخواست دہندہ کی قومیت اور اس کے قیام کی مدت کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔ سعودی سیاحتی ویزہ کی قیمت 50 ڈلر سے 300 ڈالر کے درمیان ہوسکتی ہے۔

اس کے برعکس سعودی ویزہ ویب سائٹ کے مطابق کاروباری مقاصد کے لیے ملک کا دورہ کرنے والوں کو بزنس وزٹ ویزا کی قیمت 100 سے500 ڈالر کے درمیان فیس ادا کرنا ہوگی۔

جہاں تک ورک ویزا کا تعلق ہےتو یہ عام طور پر کام کی قسم، قیام کی مدت اور درخواست دہندہ کی قومیت کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے جس کی فیس کئی سو سے لے کر ہزاروں ڈالر تک ہوسکتی ہے۔ سعودی آجر عام طور پر ملازم کی کفالت کی فیس برداشت کرتا ہے اور ان اخراجات کو پورا کرتا ہے۔

متعلقہ سیاق و سباق میں سٹڈی ویزہ کی قسم کو ان الیکٹرانک ویزوں میں نمایاں کیا گیا ہے جن کی درخواست کی جا رہی ہے، کیونکہ یہ ان لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو تعلیمی اداروں میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ تعلیمی ویزے کی فیس 100 سے 500
ڈالر کے درمیان ہوگی۔

ان مسافروں کے لیے ٹرانزٹ ویزا کی بھی بہت زیادہ مانگ ہے جو اپنی آخری منزل تک پہنچنے سے پہلے مملکت سے گذرتے ہیں، کیونکہ اس ویزہ کی میعاد 72 گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اس لیے اس کی فیس کم ہے۔ ٹرانزٹ ویزہ کی قیمت 20 سے 100 ڈالر کے درمیان ہوتی ہے۔

جب کہ سعودی عرب میں میڈیا ورکرز اور کانفرنسوں کی کوریج کرنے کے خواہشمند صحافی صحافتی ویزے پر آ سکتے ہیں، جس کی قیمت عام طور پر سعودی سفارت خانے یا قونصل خانے سے ہر صورت میں 50 اور 200 ڈالر کے درمیان ہوتی ہے۔ویزے کی معیاد کی مدت دورے کے مقصد اور صحافتی سرگرمیوں کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ اس کا دورانیہ کئی دنوں سے لے کر کئی مہینوں تک کی ہو سکتا ہے۔

رہائشی ویزہ افراد کو طویل عرصے تک سعودی عرب میں رہنے کی اجازت دیتا ہے۔ ان میں سے کچھ شرائط میں کام، خاندانی تعلقات یا ملک میں سرمایہ کاری کی فیس شامل ہوتی ہے۔ ایسے ویزے کی قیمت500 سے لے کر 2,000 ڈالر تک ہوسکتی ہے۔

ناقابل واپسی

ایک بار ویزہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد ادا کی گئی فیس ناقابل واپسی ہوگی چاہے درخواست مسترد ہو جائے یا وہشخص سعودی عرب کا دورہ نہ کرنے کا فیصلہ کرے۔ ویزے کی قیمتیں کئی عوامل کی بنیاد پر مختلف ہو سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں