سلمان رشدی کی اپنے اوپر قاتلانہ حملہ کرنے والے لبنانی نژاد ملزم سے ملاقات کی
متنازع مذہبی مصنف سلمان رشدی کل منگل کو نیویارک کی ایک عدالت میں پیش ہو رہے ہیں جہاں ان کی ملاقات ایک لبنانی نژاد ملزم ہادی مطر سے ہوگی جس نے 12 اگست 2022ء ان پر ایک تقریب کے دوران ان پر چاقو کے دس وار کیے تھے جن میں رشدی کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی تھی۔
اس کیس کی سماعت ذہین اور تیز طرار سمجھے جانے والے 62 سالہ پراسیکیوٹر جیسن شمٹ کریں گے۔اس موقعے پر پہلی بار حملہ آور ہادی مطر اور سلمان رشدی آمنے سامنے ہوں گے۔
رشدی، جن کی عمر اب 77 سال ہے کو 12 اگست 2022 کی شام کو 26 سال قبل امریکی ریاست نیوجرسی میں پیدا ہونے والے لبنانی نژاد امریکی ہادی مطر نے چاقو کے کئی وار کرکے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ان کی ایک آنکھ، ہاتھ اور سینے پر زخم آئے تھے۔ رشدی پر حملہ ایرانی لیڈر خمینی کے اس فتوے کے 34 سال بعد کیا گیا جس میں اس نے رشدی کو "شیطانی آیات" کی نامی کتاب لکھنے پر واجب القتل قرار دیا تھا۔ حالانکہ ایران نے 1998ء میں اس فتوے کو منسوخ کر دیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ وہ اب اس کی حمایت نہیں کرے گا۔
ہادی مطر کا لبنان میں ذہن بدلا
پبلک پراسکیوٹر رشدی کو بطور گواہ طلب کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سلمان رشدی نے گذشتہ سال "نائف" کے عنوان سے شائع کی گئی کتاب میں اپنے اوپر ہونے والے قاتلانہ حملے کی تفصیلات کی وضاحت کی تھی۔ دوسری جانب امریکی اور برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ مطرکے وکیل کا دعویٰ ہے کہ اس کے موکل کا سلمان رشدی کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔
اسٹیج پر موجود تقریب کے منظمین میں سے ایک شخص نے اس وقت حملہ روک دیا جب اس نے مطر کو دبوچ لیا تھا۔ جن لوگوں نے اسے کنٹرول کیا وہ اس کا پیچھا کرتے رہے یہاں تک کہ سپاہی پہنچے اور اسے چوٹاکوہ کاؤنٹی جیل لے گئے۔
جہاں تک اس کے والد حسین کا تعلق ہے تو وہ نوے کی دہائی میں جنوبی لبنان کے گاؤں یارون سے امریکہ آیا تھا۔اس نے 2004 ءمیں اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر کے لبنان واپسی کا فیصلہ کیا۔ ہادی مطر نے 2018ء میں لبنان کا دورہ کیا اور ایک ماہ یہاں قیام کیا تھا۔
لبنان سےواپسی پر اس کا ذہن بدل چکا تھا
ہادی مطر کی ماں سلوانا فردوس نے ’ایف بی آئی‘ کے تفتیش کاروں کو بتایا کا"جب مطر لبنان سے واپس آیا تو اس نے خود کو تہہ خانے میں بند کر لیا، اپنا کھانا خود پکاتا، مجھ سے زیادہ بات نہ کرتا۔ ایک مسلمان کے طور پر اس کی پرورش نہ کرنے پر مجھے تنگ کرنا شروع کر دیا‘‘۔ خاتون نے مزید کہا کہ میں اس کے بارے میں دوبارہ بات نہیں کروں گی"۔
"ماضی کا بھوت"
ان میں سے ایک تفتیش کار نے مطرسے پوچھا کیا تم نے شیطانی آیات پڑھی ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے چند صفحات پڑھے ہیں میں نے پوری کتاب نہیں پڑھی۔ اس نے کہا کہ اسے انٹرنیٹ سے معلوم ہوا ہے کہ مصنف شمالی نیویارک میں ’شوتاؤکا‘ فیسٹیول میں تھیٹر میں ثقافتی سمپوزیم میں انسانی آزادی پر لیکچر دے گا۔ اس لیے اس نے جا کر اسے چھریوں کے وار کیے جس سے ان کے جسم پر دس زخم آئے اور ایک آنکھ بھی چلی گئی۔
’دی نائف میں‘ مسٹر رشدی ایک ایسے منظر نامے کا تصور کرتے ہوئے یاد کرتے ہیں کہ ’ ایک نوجوان مجھے مارنے کے لیے پبلک فورم میں کھڑا ہوا ۔ جب میں نے اسے اپنی طرف دوڑتے ہوئے دیکھا تو وہ کہہ رہا تھا کہ 'تو یہ تم ہو'۔ اس کا دوسرا جملہ یہ تھا کہ ' ایک طویل عرصہ ہو گیا ہے، تو اب کیوں اتنے سالوں کے بعد یقیناً دنیا آگے بڑھ چکی ہے'۔
رشدی لکھتے ہیںکہ "لیکن ایک وقت کا سفر کرنے والا۔ماضی کا ایک مہلک بھوت آیا اور تیزی سے ان کے پاس پہنچ گیا۔ وہ کوئی بھوت نہیں تھا‘۔
ہادی مطر پر جاری مقدمے کی سماعت میں اس پر تین سنگین نوعیت کے الزامات کا سامنا ہے جس میں ایک الزام دہشت گرد تنظیم سے تعلق کا بھی ہے۔ اس پر لبنانی حزب اللہ سے تعلق کا الزام ہے اور اس جرم میں اسے 25 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔