آرامکو ہیلی کاپٹر حادثہ: مرنے والوں کے لواحقین نے پیاروں کی کیا کہانیاں سنائیں

المنطقہ الشرقیہ میں حادثے کے متاثرین کو ان کی آخری آرام گاہ کی طرف رخصت کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

غم کے چھائے ہوئے ماحول کے درمیان سعودی کمپنی ’’ آرامکو ‘‘ کے ہیلی کاپٹر گرنے کے حادثے کے متاثرین میں سے ایک مرحوم حسین الصفوانی کی والدہ نے کام پر روانہ ہونے سے پہلے اپنے بیٹے کے آخری لمحات کی تفصیلات یاد کیں۔ انہوں نے ایک اثر انگیز بیان دیا جس نے اس حادثے کے المیے کا ایک انسانی پہلو بے نقاب کیا جس میں طیارے میں سوار تمام افراد کی جان چلی گئی تھی۔

حسین الصفوانی کی والدہ نے "العربیہ" چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا حادثے کے دن صبح کے وقت گھر سے نکلا جب اس نے انہیں الوداع کہا اور ان کے سر کا بوسہ لیا۔ الصفوانی نے یہ کہا "میں جا رہا ہوں۔۔ اللہ حافظ"، یہ وہ آخری الفاظ ہیں جو اس لمحے سے اب تک ان کی یادداشت میں گونج رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ روزانہ ان کی واپسی کے وقت ان کا انتظار کرنے کی عادی تھیں کیونکہ فرض کیا گیا تھا کہ وہ شام چھ بجے اپنا کام ختم کریں گے اور تقریباً سات بجے گھر پہنچیں گے لیکن اس دن یہ وقت واپسی کے بغیر گزر گیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے پیغامات بھیج کر اور کال کر کے ان سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا فون بند تھا۔ ماں نے کہا لیٹ ہونا بیٹے کی عادت میں سے نہیں تھا۔ اس چیز نے مجھے یہ محسوس کرنے پر مجبور کیا کہ کوئی معاملہ پیش آیا ہے۔ اس کے بعد انہیں ہیلی کاپٹر گرنے کی خبر مل گئی۔ انہوں نے کہا "میں شروع میں اس خبر پر یقین نہیں کر سکی"۔

مرحوم حسین الصفوانی کے بھائی نے اپنے بھائی کے ساتھ اتفاق کرنے والی کئی باتوں کے بارے میں بتایا۔ انہو ں نے کہا کہ مرحوم مستقل طور پر ان کی تعلیم کے معیار کے بارے میں اطمینان حاصل کرتے تھے اور وہ اپنے خاندان اور دوستوں میں بھلائی کے کام کرنے کی محبت اور کام سے وابستگی کے لیے جانے جاتے تھے۔ ان کے کھو جانے نے خاندان کے افراد کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔

سعودی وزارت توانائی کے ذمہ دار ذرائع نے اتوار 28 جون 2026ء کی صبح چھ بجے راس تنورہ کے علاقے میں سعودی کمپنی ’’ آرامکو ‘‘ کے ایک ہیلی کاپٹر کے گرنے کا اعلان کیا تھا۔ ذرائع نے واضح کیا کہ حادثے کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر کے تمام مسافروں کی موت ہوگئی۔ ان کی تعداد 14 تھی اور سب سعودی شہری تھے۔ متعلقہ حکام نے اداروں کے ساتھ ملکر حادثے کے حالات اور اس کے اسباب کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اسی وقت، جب ہیلی کاپٹر حادثے کی گونج ابھی تک متاثرین کے خاندانوں پر چھائی ہوئی ہے، مرحوم موسیٰ لاشط کے لواحقین نے ان کی روزمرہ کی زندگی کی تفصیلات کو بیان کیا ہے۔ ان کے والدین کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی کی ان کی حرص اور مذہبی وابستگی کو یاد کیا گیا۔ موسیٰ لاشط کے لواحقین نے کہا کہ ان کی روانگی نے ایک بڑا خلا چھوڑ دیا ہے۔

"العربیہ" چینل سے بات کرتے ہوئے مرحوم کے والد جعفر لاشط نے کہا کہ ان کا بیٹا عادی تھا کہ وہ ان سے اجازت لیے بغیر آرامکو میں اپنے کام کی جگہ کے لیے روانہ نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ان کے ساتھ رشتہ باپ کا بیٹے کے ساتھ رشتے سے بڑھ گیا تھا کیونکہ یہ دوستی کی سطح میں تبدیل ہو گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موسیٰ اپنے والد کا شدید احترام کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ ان کی قدر اور تعظیم کے لیے ان کی مجلس میں ان کے قدموں کے پاس بیٹھنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی عادت تھی جس پر انہوں نے اپنی پوری زندگی میں عمل کیا۔

ان کے والد نے یہ بھی کہا کہ ان کا بیٹا موسی لاشط جمعہ کا دن اپنی بہنوں اور اپنے خاندان کے افراد کو جمع کرنے کے لیے وقف کرتا تھا، پس وہ ان کی زیارت کرتا اور ان کے ساتھ مغرب تک وقت گزارتا تھا۔ وہ اپنی بہنوں اور ان کے بچوں کی مدد کے لیے اپنی تنخواہ کا ایک حصہ مختص کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ نماز کی پابندی اور رمضان کے مہینے میں قرآن کریم ختم کرنے کا شدید حریص تھا۔

موسی لاشط کے چچا ابراہیم لاشط نے بتایا کہ خاموشی موسیٰ کی شخصیت کی سب سے نمایاں خصوصیت تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے درمیان آخری رابطہ عمرہ ادا کرنے کے بعد انہیں مبارکباد دینے کے لیے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم اپنے تعلیمی سالوں سے ہی حسن اخلاق اور ادب کے لیے معروف تھا۔ وہ اپنے اخلاق اور اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمی کی حرص میں اپنے خاندان کے افراد کے درمیان ایک رول ماڈل بن گئے تھے۔

الشرقیہ کا علاقہ آج حادثے کے متاثرین کی آخری آرام گاہ کی طرف رخصت کا شاہد ہے۔ سعودی آرامکو نے پلیٹ فارم ’’ ایکس ‘‘پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے حادثے کے متاثرین کی تعزیت کی اور ایک بیان میں کہا کہ شدید غم اور افسوس کے ساتھ سعودی آرامکو الجعیمہ کے قریب کمپنی کے ہیلی کاپٹر کے گرنے کے حادثے میں فوت ہونے والوں کی تعزیت کرتی ہے، ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ انہیں اپنی وسیع رحمت میں جگہ دے اور ان کے لواحقین کو صبر اور تسلی عطا فرمائے۔ حادثے نے سعودی حلقوں میں غم کی ایک کیفیت چھوڑ دی ہے۔ الوداعی مناظر اور متاثرین کے مناقب کی یاد کا سلسلہ جاری ہے۔ مرحومین نے اپنے کام کا آخری سفر ایسے ختم کیا کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ نہیں سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں