سعودی عرب مذاکرات قریب؛ پوتین سے 'بہت جلد' ملاقات ہو سکتی ہے: ٹرمپ
یوکرین کی شمولیت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا: زیلنسکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا ہے کہ وہ ولادیمیر پوتین سے "بہت جلد" ملاقات کر سکتے ہیں۔ نیز انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ ان کے روسی ہم منصب حقیقتاً یوکرین میں لڑائی بند کرنا چاہتے ہیں۔
وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے جنگ کے خاتمے کے لیے ریاض میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کی توقعات کم کرنے کی کوشش کی جس کے چند گھنٹے بعد ٹرمپ نے صحافیوں کو ملاقات کے بارے میں بتایا، "کوئی وقت مقرر نہیں لیکن یہ بہت جلد ہو سکتا ہے۔"
جیسا کہ روبیو سعودی دارالحکومت میں روسی حکام کے ساتھ مذاکرات میں ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد کی قیادت کریں گے تو اس وقت سفارتی سطح پر کافی ہلچل ہے۔ یاد رہے کہ یوکرین کی وحشیانہ جنگ کو تیسرا سال مکمل ہونے کو ہے۔
ایئر فورس ون پر پرواز کے بعد ٹرمپ نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم بشمول شرقِ اوسط میں ان کے سفیر سٹیو وٹ کوف روسی حکام کے ساتھ "طویل اور سنجیدہ" بات کر رہی ہے۔ وٹ کوف کے بارے میں صدر نے کہا کہ انہوں نے پوتین سے حال ہی میں تقریباً تین گھنٹے تک ملاقات کی۔
ٹرمپ نے پوتین کے بارے میں کہا، "میرے خیال میں وہ لڑائی بند کرنا چاہتے ہیں۔"
کیا پوتین پورے یوکرین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، اس سوال پر ٹرمپ نے کہا: "میرا بھی ان سے یہی سوال تھا۔"
ٹرمپ نے مزید کہا ، "اگر وہ ایسا کریں گے تو مجھے ایک بڑی پریشانی ہو گی۔"
انہوں نے کہا، "مجھے لگتا ہے کہ وہ اسے ختم کرنا چاہتے ہیں اور وہ اسے جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ دونوں۔" یوکرینی صدر کے بارے میں انہوں نے مزید کہا، "زیلینسکی بھی اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔"
اس دوران یوکرائنی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اتوار کو کہا کہ ان کا خیال ہے کہ اگر ٹرمپ نیٹو اتحاد کے لیے امریکی حمایت کم کر دیں تو روس اس کمزور اتحاد کے خلاف "جنگ چھیڑنے" کی تیاری کر رہا ہے۔
تاہم ٹرمپ زیلنسکی کے ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے نظر آئے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ یوکرینی رہنما کے پیغامات کے بارے میں "ذرا بھی فکرمند" نہیں تھے۔
ریپبلکن ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بارہا اصرار کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس واپس آنے کی صورت میں یوکرائن کے تنازع کو ایک ہی دن میں ختم کر دیں گے لیکن وزیرِ خارجہ روبیو نے زور دیا کہ ایسے دیرینہ، خونی اور پیچیدہ تنازعے کو حل کرنا "آسان نہ" ہو گا۔
میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر سی بی ایس کے ساتھ ایک انٹرویو میں امریکہ کے اعلیٰ سفارت کار نے کہا، "قیامِ امن کا عمل ایسی چیز نہیں جو ایک ملاقات میں طے ہو جائے۔"
کوئی بات حتمی 'نہیں'
روبیو نے کہا، "ابھی تک کچھ بھی طے نہیں ہوا ہے۔" نیز کہا کہ مذاکرات کا مقصد ایک وسیع تر گفتگو کا آغاز کرنا تھا جس میں "یوکرین بھی شامل ہو اور جنگ کا خاتمہ بھی۔"
وِٹ کوف اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز دونوں کی مذاکرات میں شرکت متوقع ہے۔
ٹرمپ اور پوتین نے بدھ کو ایک طویل فون کال کے دوران جنگ بندی مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا۔
اس کال نے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ ساتھ کئیف کو بھی لاعلمی کا شکار کر دیا ہے اور زیلنسکی نے اصرار کیا ہے کہ "یوکرین کے بغیر یوکرین کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہونا چاہیے۔"
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ہفتے کے روز فون پر بات کرنے والے روبیو نے کہا، "ابھی کوئی عمل شروع نہیں ہوا۔ ایک فون کال سے امن نہیں ہوتا۔"
اتوار کو نشر ہونے والے این بی سی کے ایک انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا تھا، پوتین ایک مسلسل جھوٹ بولنے والے شخص ہیں اور ایک مذاکراتی فریق کے طور پر ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
روبیو نے کہا، "میں جغرافیائی سیاست کے حوالے سے نہیں سوچتا، کسی کو بھی کسی پر اعتماد کر لینا چاہیے۔ اگلے چند ہفتوں اور دنوں میں اس بات کا تعین ہو جائے گا کہ آیا (پیوٹن) سنجیدہ ہیں یا نہیں۔"