ملائیشیا میں آتشیں اسلحے کے جرم میں اسرائیلی کو سات سال قید کی سزا

شالوم ایویتان کی جانب سے آتشیں اسلحہ رکھنے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ملائیشیا کی ایک عدالت نے بدھ کے روز ایک اسرائیلی شخص کو چھے بندوقیں اور درجنوں گولیاں رکھنے کا جرم قبول کرنے کے بعد سات سال قید کی سزا سنائی، یہ بات مجرم کے وکیل نے بتائی۔

گذشتہ مارچ میں 39 سالہ شالوم ایویتان کو دارالحکومت کوالالمپور کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا اور بعد میں اس پر غیرقانونی سمگلنگ اور آتشیں اسلحہ رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ ایک شادی شدہ ملائیشین جوڑے پر ایوتان کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

حکام نے بتایا کہ ایویتان نے خاندانی تنازعہ پر ایک اور اسرائیلی شہری کو نشانہ بنانے کے لیے ملائیشیا میں موجودگی کا دعویٰ کیا۔

ملائشیا اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور پولیس نے مجرم کے محرکات اور اس امکان کی تحقیقات کیں کہ آیا وہ کسی اسرائیلی جرائم پیشہ حلقے کا حصہ یا جاسوس تو نہیں تھا۔

حکام نے بتایا کہ ایویتان گذشتہ سال 12 مارچ کو متحدہ عرب امارات سے فرانسیسی پاسپورٹ پر سفر کر کے پہنچا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے 27 مارچ کو اسے کوالالمپور کے ایک ہوٹل سے اسلحے کے بیگ کے ساتھ حراست میں لیا تھا اور تفتیش کرنے پر اس نے اسرائیلی پاسپورٹ پیش کیا تھا۔

بدھ کے روز کوالالمپور کی سیشن عدالت نے ایویتان کا اعترافِ جرم قبول کر لیا اور سات سال کی سزا کو گذشتہ سال 28 مارچ کو اس کی گرفتاری کی تاریخ سے شروع کرنے کا حکم دیا، یہ بات اس کے وکیل نرن سنگھ نے رائٹرز کو بتائی۔

وکیل نے مزید کہا کہ اویتان دارالحکومت کے مضافات میں واقع کجانگ جیل میں اپنی سزا پوری کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں