غزہ پر حکمرانی سے متعلق اسرائیلی تجویز کے جال میں نہیں پھنسیں گے : مصری فوجی ماہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی اپوزیشن کے رہنما یائیر لیپڈ نے کل منگل کے روز تجویز پیش کی تھی کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ ختم ہونے کے بعد مصر کم از کم آئندہ آٹھ برس کے لیے غزہ کی پٹی کے انتظامی امور سنبھال لے اور اس کے مقابل عالمی برادری قاہرہ پر بیرونی قرضہ ادا کر دے۔ اس تجویز پر وسیع پیمانے پر ردود عمل سامنے آ رہے ہیں۔

سابق وزیر اعظم یائر لیپڈ نے کہا تھا کہ "حل یہ ہے کہ مصر آٹھ برس کے لیے غزہ کی پٹی کے انتظامی امور سنبھال لے، اس مدت کو 15 برس تک بڑھانے کا اختیار بھی ہونا چاہیے"۔

واشنگٹن میں ایک تحقیقی مرکز کے سیمینار میں لیپڈ نے مزید کہا کہ "اسی دوران میں عالمی برادری اور علاقائی اتحادیوں کی جانب سے (مصر کا) بیرونی قرضہ ادا کر دیا جائے گا"۔

لیپڈ کی تجویز میں یہ بات شامل ہے کہ مصر اس "امن فورس" کی قیادت کرے جس میں عالمی برادری اور عرب ممالک بھی شامل ہوں۔ اس کا مقصد 15 ماہ سے زیادہ کی جنگ کے بعد تباہ حال غزہ کی پٹی کو چلانا اور اس کی تعمیر نو ہو گا۔

قاہرہ نے اسرائیلی اپوزیشن لیڈر کے بیان کو نظر انداز کرتے ہوئے اس پر سرکاری طور پر کوئی جوابی بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم مصر کے ایک فوجی ماہر اس بیان کو محض ہذیانی بکواس شمار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبصرے کے قابل نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک چال ہے جس میں مصر نہیں پھنسے گا۔

مصری کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کے مشیر میجر جنرل اسامہ کبیر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں کہا کہ غزہ کی پٹی میں 15 ماہ تک ننگی جارحیت اور منظم طریقے سے اجتماعی نسل کشی دیکھی گئی۔ اس نے پہلی مرتبہ عالمی فوجداری عدالت کو مجبور کر دیا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم اور اس کے وزیر دفاع کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرے۔

اسامہ کے مطابق اسرائیل حماس کے ساتھ جنگ بندی مراحل میں مجبور ہو چکا ہے اور وہ اپنی پر زور ہیبت اور تزویراتی مزاحمت کھو چکا ہے۔ یہ چیز قیدیوں کے تبادلے کی ہر باری میں واضح طور سے ظاہر ہوتی ہے۔

اسامہ نے واضح کیا کہ اسرائیلی اپوزیشن رہنما لائیر لیپڈ یہ تصور کر رہے ہیں کہ اگر مصر 15 سال تک غزہ کی پٹی کو سنبھال لے، اس دوران وہاں کی تعمیر نو کی جائے اور سیکیورٹی اور امن برقرار رکھا جائے، اور اس کا خوف زدہ ماحول مستحکم ہو ... تو اس رہنما کی ذہنی حالت کو قابل ترس اور تجویز کو گھناؤنی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسامہ نے کہا کہ "لیپڈ چاہتا ہے کہ مصر غزہ کی پٹی کی انتظامیہ سنبھال لے اور وہ اس کے تحفظ میں پڑ جائے جس کے بعد غزہ کی پٹی میں مزاحمت کا رخ مصر کے خلاف ہو جائے۔ اس طرح سب لوگ تباہی کے ایسے دائرے میں داخل ہو جائیں گے جس سے نکلنا ممکن نہ ہو سکے۔ ادھر اسرائیلی فارغ ہو کر دھیرے دھیرے مغربی کنارے پر قبضہ کر لے"۔

مصری فوجی ماہر کے مطابق مصر کے حوالے سے لیپڈ کی بات نہایت بری ہے۔ اسامہ نے کہا کہ "اگر مصر کا خطے میں وجود نہ ہوتا اور وہ جنگ بندی میں وساطت کار کا کردار ادا نہ کرتا تو اسرائیل آج اپنے قیدیوں کی واپسی کے سلسلے میں مدد کے لیے چلّا رہا ہوتا". !

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں