اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو فائر بندی میں کم از کم ایک ہفتے کی توسیع کا ارادہ رکھتے ہیں تا کہ اس وقت تک امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف مشرق وسطی پہنچ جائیں۔
البتہ نیتن یاہو کے قریبی افراد کے اعلان کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم دوبارہ لڑائی شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں ... تاہم وہ تبادلے کے سمجھوتے کے پہلے مرحلے کی توسیع کے لیے وساطت کار ممالک کی کوششوں کے نتائج کے منتظر ہیں۔
اسرائیلی اخبارات کے مطابق نیتن یاہو نے دھمکی دی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کے شمال کی آبادی کی جنوب کی سمت جبری ہجرت، بجلی کی فراہمی منقطع کرنے اور بھرپور لڑائی کی طرف واپس لوٹنے کے ذریعے حماس تنظیم پر زیادہ بڑا دباؤ ڈالیں گے۔
ادھر حماس نے باور کرایا ہے کہ اسرائیل صرف قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے کے راستے ہی یرغمالیوں کو حاصل کر سکے گا۔ حماس نے معاہدے کے پہلے مرحلے میں کسی بھی توسیع کو مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم نے زور دیا ہے کہ معاہدے کے تمام مراحل پر اسی طرح عمل درآمد کی ضرورت ہے جس طرح اس پر دستخط کیے گئے۔
دوسری جانب فلسطینی طبی کارکنان اور میڈیا نے آج پیر کے روز بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں اسرائیلی ڈرون طیارے کی فائرنگ سے دو فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔
اس سے قبل کل اتوار کے روز غزہ کے لیے تمام غذائی مواد اور دیگر امدادی سامان روکنے پر اسرائیل کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیل خبردار کر چکا ہے کہ اگر حماس نے فائر بندی میں توسیع کی نئی تجویز قبول نہ کی تو "مزید نتائج" بھگتنا ہوں گے۔ اسرائیل کی اس تنبیہ پر بھی نکتہ چینی کی جا رہی ہے۔
بات چیت کے وساطت کار ملکوں مصر اور قطر نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بھوک کو فلسطینیوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر کے انسانی قانون کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔
حماس تنظیم نے فائر بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے اختتام پذیر ہونے کے چند گھنٹے بعد اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تنظیم نے اسرائیل کی جانب سے امدادات کا راستہ روکنے کے فیصلے کو جنگی جرم اور جنگ بندی پر کھلا حملہ قرار دیا۔
معاہدے کے دوسرے مرحلے میں حماس کی جانب سے بقیہ درجنوں یرغمالیوں کو رہا کیا جانا ہے۔ اس کے مقابل غزہ سے اسرائیلی انخلا اور مستقل فائر بندی پر عمل کیا جانا ہے۔ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے مذاکرات ایک ماہ قبل شروع ہو جانا تھے تاہم ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا۔
اسرائیل نے کل اتوار کے روز بتایا تھا کہ امریکا کی جانب سے ایک نئی تجویز ہے جس میں فائر بندی کے پہلے مرحلے میں پورے ماہِ رمضان اور یہودیوں کی عیدِ فسح تک توسیع کے لیے کہا گیا ہے۔ یہودیوں کی عید 20 اپریل کو ختم ہو گی۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مطابق مذکورہ تجویز میں کہا گیا ہے کہ حماس پہلے روز یرغمالیوں کی آدھی تعداد رہا کر دے اور پھر بقیہ قیدیوں کو مستقل فائر بندی کے حوالے سے معاہدے تک پہنچنے پر آزاد کرے۔
نیتن یاہو نے بتایا کہ اسرائیل صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مکمل طور پر رابطہ کاری میں ہے۔ ان کے مطابق فائر بندی اسی صورت جاری رہ سکتی ہے اگر حماس یرغمالیوں کو رہا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے۔
انسانی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے رابطہ کار ٹوم فلیچر نے اسرائیل کے حالیہ فیصلے کو "باعث تشویش" قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون امداد پہنچائے جانے کی اجازت کی ضرورت باور کراتا ہے۔ معالجین کی بین الاقوامی تنظیم 'ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز' نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امدادی سامان کو سودے بازی کے پتے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ تنظیم نے اس چیز کو "نا قابل قبول" اور "شرم ناک" قرار دیا۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں دشمنانہ کارروائیوں کی طرف لوٹنے سے رکنے کے لیے تمام کوششیں کریں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ غزہ کے لیے انسانی امداد کی فراہمی فورا دوبارہ جاری کی جائے اور تمام یرغمالیوں کو آزاد کیا جائے۔ یہ موقف گوتریس کے ترجمان اسٹیفن ڈوژارک کی زبانی سامنے آیا۔
اسرائیل میں پانچ غیر سرکاری تنظیموں نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک عارضی فیصلہ جاری کرے جو اسرائیل کو غزہ میں امدادی سامان کا داخلہ روکنے سے روک دے۔ تنظیموں کا موقف ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی پاسداری کی خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ جنگ کے سبب غزہ کی پٹی کی بیس لاکھ سے زیادہ کی آبادی کا بڑا حصہ بین الاقوامی امداد پر انحصار کر رہا ہے۔ رواں سال 19 جنوری کو جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے روزانہ تقریبا 600 ٹرک امدادی سامان لے کر غزہ کی پٹی میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں علاقے میں قحط کا اندیشہ کم ہو گیا ہے جس کے حوالے سے بین الاقوامی ماہرین نے خبردار کیا تھا۔