حوثیوں کی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کے طور پر درجہ بندی کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی ایگزیکٹو آرڈر کے تحت حوثی جماعت کو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کا درجہ دینے کا فرمان 3 مارچ 2025 بروز پیر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ اس طرح تنظیم کی قیادت کو اضافی پابندیوں کا سامنا ہو گا۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 22 جنوری کو جو بائیڈن کی انتظامیہ کا فیصلہ منسوخ کر چکے ہیں۔ انھوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے ذریعے (حوثیوں کے نام سے معروف) انصار اللہ تنظیم کو دہشت گرد جماعتوں کی فہرست میں دوبارہ شامل کر لیا گیا۔

واضح رہے کہ سابق صدر جو بائیڈن نے حوثیوں کا نام غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا تھا۔

یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے جنوری 2021 میں حوثیوں کا نام غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں درج کیا تھا۔ تاہم بائیڈن انتظامیہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس درجہ بندی کو منسوخ کر دیا تھا۔ البتہ گذشتہ برسوں کے دوران میں امریکی انتظامیہ کی روش کے نتیجے میں حوثیوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہو گیا۔ اس دوران میں انھوں نے درجنوں مرتبہ امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا ... اور "اتحادی ممالک" میں سول انفرا اسٹرکچر پر حملے کیے۔ اس کے علاوہ حوثی ملیشیا نے آبنائے باب المندب میں 100 سے زیادہ تجارتی بحری جہازوں پر حملے کیے۔

امریکی انتظامیہ نے باور کرایا ہے کہ وہ علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعاون پر کاربند ہے تا کہ حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں کو ختم کیا جا سکے اور انھیں وسائل سے محروم کیا جا سکے۔ اس کا مقصد امریکی شہریوں ، امریکا کے اتحادیوں اور اسی طرح بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی سرگرمیوں پر حوثیوں کے حملوں کو روکنا ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے نیا فرمان جاری ہونے کے بعد اب یمن میں کام کرنے والے اقوام متحدہ کے شراکت دار اداروں ، غیر سرکاری تنظیموں اور نجی ٹھیکے داروں کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔

اس جائزے کے تحت ایسے کسی بھی فریق کے ساتھ تعلقات ختم کر دیے جائیں گے جس نے حوثیوں کے لیے مالی رقوم منتقل کی ہوں، حوثیوں کا مقابلہ کرنے کی بین الاقوامی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی ہو یا حوثیوں کی دہشت گرد کارروائیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں