ٹرمپ کی نئی سفری پابندی جلد ہی افغانوں اور پاکستانیوں پر لگائی جا سکتی ہے: ذرائع

لاکھوں افغانوں کے متأثر ہونے کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی سفری پابندی اگلے ہفتے افغانستان اور پاکستان کے لوگوں کو امریکا میں داخلے سے روک سکتی ہے۔ ممالک کی سکیورٹی اور جانچ کے خطرات کے بارے میں حکومتی جائزے کی بنیاد پر یہ پابندی لگائی جا رہی ہے۔ یہ بات اس معاملے سے واقف تین ذرائع نے بتائی۔

تینوں ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر کہا کہ دیگر ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں لیکن یہ نہیں معلوم کہ یہ کون سے ہیں۔

یہ اقدام ریپبلکن صدر کی سات اکثریتی مسلم ممالک کے مسافروں پر پہلی مدت کی پابندی کا عندیہ ہے۔ یہ پالیسی 2018 میں سپریم کورٹ کے برقرار رکھنے سے پہلے بہت زیادہ بحث و تکرار سے گذری تھی۔

ٹرمپ کے بعد آنے والے ڈیموکریٹ سابق صدر جو بائیڈن نے 2021 میں پابندی کو منسوخ کرتے ہوئے اسے "اپنے قومی ضمیر پر داغ" قرار دیا تھا۔

نئی پابندی ان دسیوں ہزار افغانیوں کو متأثر کر سکتی ہے جنہیں امریکہ میں پناہ گزینوں کے طور پر یا خصوصی تارکینِ وطن ویزوں پر دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ انہیں اپنے ملک میں 20 سالہ جنگ کے دوران امریکہ کے لیے کام کرنے پر طالبان کے انتقام کا خطرہ ہے۔

ٹرمپ نے 20 جنوری کو ایک انتظامی حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت قومی سلامتی کے خطرات کا پتہ لگانے کے لیے امریکہ میں داخلے کے خواہشمند کسی بھی غیر ملکی کی سکیورٹی جانچ کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس حکم نے کابینہ کے متعدد ارکان کو 12 مارچ تک ان ممالک کی فہرست پیش کرنے کی ہدایت کی جہاں سے سفر جزوی یا مکمل طور پر معطل ہو جانا چاہیے کیونکہ ان کی "جانچ اور سکریننگ کی معلومات بہت کم ہیں۔"

تینوں ذرائع اور ایک اور نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ افغانستان کو سفری پابندی کے لیے تجویز کردہ ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ پاکستان کو بھی شامل کرنے کی سفارش کی جائے گی۔

خارجہ اور جسٹس اینڈ ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکموں اور نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے دفتر جن کے رہنما اس اقدام کی نگرانی کر رہے ہیں، نے تبصرہ کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔

ایک ذریعے نے نشاندہی کی کہ مہاجرین کے طور پر یا خصوصی ویزوں پر امریکہ میں دوبارہ آباد ہونے کے مجاز افغانوں کو پہلے سخت تلاشی سے گذرنا پڑتا ہے جس کی بنا پر وہ دنیا میں "کسی بھی قوم سے زیادہ جانچ پڑتال سے گذرنے والے" قرار پاتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ان کی آباد کاری کی نگرانی کرنے والا محکمہ خارجہ کا دفتر تارکینِ وطن کے خصوصی ویزا کے حامل افراد کے لیے سفری پابندی سے استثنیٰ کا مطالبہ کر رہا ہے "لیکن اس کے ملنے کا امکان نہیں ہے"۔

رائٹرز نے گذشتہ ماہ اطلاع دی کہ اس دفتر کو افغان نقلِ مکانی کی کوششوں کے رابطہ کار کو اپریل تک بند کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرنے کو کہا گیا ہے۔

دو عشروں کی جنگ کے بعد طالبان نے اگست 2021 میں آخری امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد کابل پر قبضہ کر لیا تھا۔ وہ اب داعش کی علاقائی شاخ کی شورش کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی پرتشدد انتہا پسند دہشت گردوں سے نبرد آزما ہے۔

ٹرمپ کی ہدایت امیگریشن کریک ڈاؤن کا حصہ ہے جسے انہوں نے اپنی دوسری مدت کے آغاز میں شروع کیا تھا۔

انہوں نے اکتوبر 2023 کی ایک تقریر میں اپنے منصوبے کی ایک جھلک پیش کی تھی جس میں غزہ کی پٹی، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن اور "ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی کسی بھی جگہ" سے لوگوں کو محدود کرنے کا وعدہ کیا گیا۔

#AfghanEvac نامی تنظیم ایسے گروپوں کا ایک اتحاد ہے جو افغانوں کے انخلاء اور آبادکاری کو امریکی حکومت کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ اس کے سربراہ شان وان ڈیور نے امریکی ویزے کے حامل لوگوں پر زور دیا ہے کہ اگر ممکن ہو تو وہ جلد از جلد سفر کریں۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا، "اگرچہ کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم امریکی حکومت کے متعدد ذرائع بتاتے ہیں کہ آئندہ ہفتے کے اندر نئی سفری پابندیاں نافذ ہو سکتی ہیں۔ اس سے افغان ویزا کے حامل ان افراد پر خاصا اثر ہو سکتا ہے جو امریکہ منتقل ہونے کے منتظر ہیں۔"

تقریباً 200,000 افغان ایسے ہیں جن کی امریکہ میں آبادکاری کی منظوری دی گئی ہے یا جن کی امریکی پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کے خصوصی ویزا کی درخواستیں زیرِ التوا ہیں۔ 20 جنوری کو ٹرمپ نے پناہ گزینوں کے داخلے اور ان کی پروازوں کے لیے فنڈز فراہم کرنے والی غیر ملکی امداد کو 90 دن کے لیے منجمد کرنے کا حکم دے دیا۔ تب سے وہ افغانستان اور تقریباً 90 دیگر ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں جن میں تقریباً 20,000 پاکستان میں بھی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں