مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور مشرق وسطی کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیف ویٹکوف کے درمیان جمعرات کے روز ٹیلی فون پر رابطہ ہوا۔
یہ بات مصری وزارت خارجہ کے ترجمان تمیم خلاف نے آج جمعے کے روز بتائی۔ ترجمان کے مطابق بات چیت میں دونوں شخصیات نے مصر اور امریکا کے درمیان تزویراتی شراکت، مختلف شعبوں میں حاصل ہونے والے متبادل مفادات اور مشرق وسطی میں امن کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
اس سلسلے میں بدر عبدالعاطی نے غزہ کی تعمیر نو سے متعلق عرب منصوبے کا جائزہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ مصر اس منصوبے کو مکمل اور تفصیلی انداز سے پیش کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کے ساتھ مثبت پیش رفت جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ عبدالعاطی نے زور دیا کہ غزہ فائر بندی کے معاہدے کے تمام مراحل پر عمل درآمد کے لیے تمام فریقوں کی جانب سے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی اسرائیل کو غزہ کی پٹی کے لیے انسانی امداد کے داخلے کی اجازت دینی چاہیے اور تعمیر نو اور جنگ کے خاتمے کی سمت راہ ہموار کرنا چاہیے۔
بات چیت میں امریکی ایلچی ویٹکوف نے باور کرایا کہ عرب منصوبہ پر کشش عناصر کا حامل ہے اور نیک نیتی کا عکاس ہے۔ انھوں نے آئندہ عرصے میں اس منصوبے کے حوالے سے مزید تفصیلات جاننے کو خوش آئند قرار دیا۔
غزہ میں جنگ بندی کی توسیع پر اتفاق رائے اور معاہدے کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے مذاکرات کی راہ مسدود ہوتی نظر آ رہی ہے۔ مزید برآں امریکی صدر نے یرغمالیوں کی رہائی کے سلسلے میں حماس کو "آخری تنبیہ" جاری کر دی ہے۔ ان تمام امور نے معاملات کو خلط ملط کر دیا ہے اور منظرنامہ دوبارہ جنگ کی طرف لوٹنے کے قریب ہو رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حماس کی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے اس سے غزہ کی پٹی سے کوچ کر جانے اور بقیہ تمام زندہ اور مردہ یرغمالیوں کو فوری واپس کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے دھمکی ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو غزہ کی پٹی کی آبادی کو اس کی قیمت موت کی صورت میں ادا کرنا ہو گی۔
اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے آج جمعے کے روز غزہ کی پٹی پر ایک نئے حملے کے منصوبے کی منظوری دے دی۔
اسرائیلی ویب سائٹ Ynet نیوز کے مطابق اسرائیل تنازع کو طول دینے کے لیے تیار ہے جب کہ اس کے مقابل حماس تنظیم اپنی طاقت کو دوبارہ اکٹھا کر کے دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنا رہی ہے۔