یوکرین میں ایک ذمے دار نے بتایا ہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب روس نے ادیسا کو ایک میزائل حملے کا نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں چار شامی شہری ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ جنوبی شہر کی بندرگاہ پر کھڑے ایک بحری جہاز کو نقصان پہنچا، جہاز پر بارباڈوس کا پرچم لگا ہوا تھا۔
تعمیر نو کے نائب وزیر اولیکسی کولیپا نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ "افسوس ناک بات ہے (حملے میں) چار شامی شہری ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں کی عمریں 18 سے 24 سال کے درمیان تھیں۔ ان کے علاوہ دو افراد زخمی بھی ہوئے جن میں ایک یوکرینی اور ایک شامی ہے"۔
مذکورہ ذمے دار کے مطابق جس بحری جہاز کو نقصان پہنچا وہ مکمل طور پر شہری جہاز ہے۔ حملے کے وقت اس پر گندم لادی جا رہی تھی تا کہ اسے الجزائر برآمد کیا جا سکے۔ کولیپا نے بتایا کہ "روس، یوکرین میں بنیادی ڈھانچے پر حملہ کر رہا ہے جن میں وہ بندرگاہیں بھی شامل ہیں جو دنیا میں غذائی امن سے متعلق ہیں"۔
ادھر یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی کے آبائی شہر کریوی رے میں روس کے ایک میزائل حملے میں 47 سالہ خاتون شہری ہلاک ہو گئی۔ ایک مقامی ذمے دار کے مطابق حملے میں کم از کم دو افراد زخمی بھی ہوئے۔
یوکرین کی فضائیہ نے بتایا ہے کہ روس نے گذشتہ رات اس کی سرزمین کی سمت 3 میزائل اور 133 ڈرون طیارے بھیجے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق ان میں سے 98 کو مار گرایا گیا جب کہ 20 ڈرون اپنے اہداف تک نہیں پہنچ سکے۔ البتہ بقیہ 15 ڈرون کے انجام کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔
دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ فضائیہ کے یونٹوں نے گذشتہ رات کے دوران میں یوکرین کے 21 ڈرون طیارے تباہ کر دیے۔