امریکا میں انسانی حقوق کی اسلامی اور یہودی تنظیموں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ٹرمپ نے سینیٹ میں ایک اہم ڈیموکریٹ رکن چاک شومر کے بارے میں کہا تھا کہ وہ فلسطینی ہیں۔ تنظیموں کے مطابق صدر نے یہ اصطلاح شومر کی توہین کے لیے استعمال کی۔
ٹرمپ بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں کمپنیوں کی ٹیکس پالیسی سے متعلق بات کر رہے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے اس بات پر ناراضی کا اظہار کیا کہ کانگریس میں ڈیموکریٹ ارکان ان کے ایجنڈے کی حمایت نہیں کر رہے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ "میرے نقطہ نظر سے شومر فلسطینی ہیں۔ وہ فلسطینی ہو گئے ہیں، پہلے وہ یہودی تھے۔ اب وہ یہودی نہیں رہے، یقینا وہ فلسطینی ہیں"۔
شومر امریکا میں منتخب اعلی یہودی عہدے دارے ہیں۔ ان کا نسلا فلسطین سے کوئی تعلق نہیں۔
اسلامک امریکن ریلشنز کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نہاد عوض کے مطابق صدر ٹرمپ کا "فلسطینی" کی اصطلاح کو نسلی توہین کے طور پر استعمال کرنا زیادتی ہے، یہ ان کے منصب کے شایان شان نہیں"۔
فلسطینی نژاد نہاد عوض کے مطابق ٹرمپ کا تبصرہ فلسطینیوں کو انسانیت سے محروم کرنے کے عمل کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی طرح یہودی کونسل برائے امور عاملہ کی چیف ایگزیکٹو ایمی اسبیٹالنک اور امریکن ڈیموکریٹک جیوئش کوئنسل کی چیف ایگزیکٹو وہالی سوئفر نے بھی ٹرمپ کے بیان کی مذمت کی ہے۔