سعودی عرب کے علاقے جازان میں بہت زیادہ آسمانی بجلی کوندنے کی کیا وجوہات ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کے ماہر موسمیات ڈاکٹر عبداللہ المسند نے جازان کے علاقے کو "عرب دنیا میں آسمانی بجلی کوندنے کا دارالحکومت" قرار دیا۔

انہوں نے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ’ایکس‘ اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ سعودی عرب میں علاقائی سطح پر آسمانی بجلی کے چمکنے کے واقعات کی شدت میں جازان کا علاقہ پہلے نمبر پر آتا ہے جس کی شرح 55 فی مربع کلومیٹر سالانہ ہے۔

یہاں تک کہ یہ تناسب یورپی براعظم اور شمالی افریقہ کے تمام ممالک سے زیادہ ہے۔ اس کے بعد الباحہ کا علاقہ 17.6 فی صد آسمانی بجلی سے روشن ہوتا ہے۔ عسیر 13.4 فی صد، مکہ مکرمہ 9.7 فی صد، مدینہ منورہ 4.3 فیصد ، القصیم 2.7 فی صد، تبوک 1.7 فی صد، العلا میں 1.5 فی صد، ریاض 1.3 فی صد، شمالی سرحدی علاقے میں 1.2 فی صد اور الجوف میں 0.9 فی صد علاقے میں آسمانی بجلی چمکتی ہے۔ دنیا بھر میں آسمانی بجلی گرنے کے سب سے زیادہ واقعات والا خطہ مغربی گوئٹے مالا میں واقع ہے جہاں اوسطاً 161 فی صد علاقہ بجلی سے جگما اٹھتا ہے۔

عبداللہ المسند نے مزید کہا کہ آپ پے در پے بجلی کی چمک سے بھرا ایسا شاندار اور خوفناک منظر دنیا کے صرف 11 جغرافیائی مقامات پر دیکھ سکتے ہیں۔ ان میں کانگو، بولیویا، کولمبیا، وینزویلا، گوئٹے مالا، میکسیکو، نکاراگوا، آسٹریلیا، انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور شامل ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جازان میں نمی کا عنصر زیادہ ہے، کیونکہ یہ جنوب مغربی موسم گرما کی سمندری مون سون ہواؤں کا گیٹ وے ہے۔ دوسری طرف جازان میں پہاڑوں اور مخالف ہوا کے دھاروں سے ملنے والے پرتشدد قدرتی عوامل ہیں۔ یہ دونوں قدرتی عوامل جازان کے آسمان کو بجلی اور گرج چمک کے لیے سازگار بناتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ جازان کے علاقے ان دنوں شدید بارشوں اور موسلا دھار بارشوں کا سپل دیکھا جا رہا ہے۔ جازان کی متعدد گورنریوں، مراکز اور دیہاتوں میں مزید بارش ہونے کا امکان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size