امریکہ سے سفیر کی ملک بدری 'افسوسناک' ہے: جنوبی افریقہ

جنوبی افریقی سفیر پر نسل پرستی کے الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

جنوبی افریقہ کے ایوانِ صدر نے ہفتے کے روز دونوں ممالک کے درمیان "سفارتی آداب" پر زور دیتے ہئے کہا ہے کہ امریکہ کا اس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ "افسوسناک" تھا۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کو کہا، جنوبی افریقہ کے سفیر ابراہیم رسول کو امریکہ میں مزید برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ "نسل پرستی کی سیاست کرنے والے" سیاست دان ہیں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ناپسند کرتے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے ایوانِ صدر نے ایک بیان میں کہا، "ایوانِ صدر نے امریکہ میں جنوبی افریقہ کے سفیر جناب ابراہیم رسول کی افسوسناک بے دخلی نوٹ کی ہے۔ ایوانِ صدر تمام متأثرہ متعلقین پر زور دیتا ہے کہ وہ اس معاملے کے حوالے سے قائم شدہ سفارتی آداب برقرار رکھیں۔"

ایوانِ صدر نے کہا، "جنوبی افریقہ امریکہ سے باہمی طور پر فائدہ مند تعلقات استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔"

نسل پرستی کے خلاف سابق مہم کار رسول کی بے دخلی سے واشنگٹن اور پریٹوریا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے ان الزامات کو دہرایا کہ جنوبہ افریقہ کی حکومت سفید فام لوگوں سے زمینیں "ضبط" کر رہی تھی جبکہ

وہاں کے کسانوں کے امریکہ میں آباد ہونے کا خیرمقدم کیا جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں