کینیڈی کے قتل میں اوسوالڈ کی مدد کس نے کی تھی؟ : ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

چند روز قبل سابق امریکی صدر جان کینیڈی کے قتل سے متعلق ہزاروں دستاویزات کی نقاب کشائی کے باوجود موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اس ’سازشی تھیوری‘ کو زندہ کیا ہے جس نے اس کیس کو کئی دہائیوں سے ڈھانپ رکھا تھا۔ آؤٹ کِک سپورٹس ویب سائٹ کے بانی کلے ٹریوس کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کل ائیر فورس ون کے بورڈ پر پوچھا کہ کیا لی ہاروی اوسوالڈ کو 1963 میں کینیڈی کے قتل میں مدد ملی تھی۔

جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مانتے ہیں کہ اوسوالڈ کینیڈی کا قاتل ہے تو انہوں نے جواب دیا "ہاں اور میں نے ہمیشہ یہی سوچا ہے۔ لیکن کیا اسے مدد ملی تھی؟"

گزشتہ دہائیوں کے دوران محکمہ انصاف اور دیگر وفاقی حکومتی ایجنسیوں نے بارہا اس نتیجے کی تصدیق کی ہے کہ اوسوالڈ واحد قاتل تھا۔ لیکن رائے عامہ کے جائزے اب بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بہت سے امریکی اب بھی مانتے ہیں کہ ڈیلاس میں کینیڈی کا قتل ایک سازش کا نتیجہ تھا۔

واضح رہے امریکی حکومت نے چند روز قبل کینیڈی کے قتل سے متعلق ہزاروں ڈیجیٹل دستاویزات شائع کی تھیں۔ خاص طور پر چونکہ ٹرمپ نے گزشتہ سال اپنی انتخابی مہم کے دوران اس معاملے پر مزید شفافیت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ صدارت سنبھالنے کے بعد انہوں نے اپنے معاونین کو 1968 میں آنجہانی صدر کے بھائی رابرٹ کینیڈی اور شہری حقوق کی تحریک کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قتل سے متعلق ریکارڈ شائع کرنے کا منصوبہ تیار کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں