میئر استنبول گرفتاری، ترکیہ میں بڑے مظاہرے جاری، وکلاء اور صحافیوں کی گرفتاریاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ترک حکام نے 19 مارچ کو استنبول کے میئر اکرم امام اوگلو کی گرفتاری سے شروع ہونے والے مظاہروں کو روکنے کے لیے اپنی مہم تیز کر دی ہے۔ صحافیوں اور وکلاء سمیت سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

وکلا، صحافی اور طلبہ

ترک صدر رجب طیب ایردوان کے اہم مخالف امام اوگلو نے جمعے کے روز اپنے وکیل محمد پہلوان کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں انہیں عدالتی نگرانی میں رہا نہ کر دیا گیا تھا۔ ترکیہ کے اقتصادی دارالحکومت کے میئر، جنہیں ان کی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا تھا اور بدعنوانی کے الزام میں اتوار کو جیل بھیج دیا گیا تھا، نے ’’ ایکس‘‘ پر لکھا ہے کہ اس بار وکیل مہمت پہلوان کو من گھڑت بہانوں کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت کے خلاف بغاوت کی کوشش کافی نہیں تھی، وہ اپنے دفاع کے لیے اس بغاوت کے متاثرین کو برداشت نہیں کر سکتے۔ جرنلسٹس سنڈیکیٹ نے ہفتے کی صبح اپنے گھروں سے دو خواتین رپورٹرز کی گرفتاری کا بھی اعلان کیا جو حکومت پر تنقید کرنے والے میڈیا آؤٹ لیٹس کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ یونین نے ’’ صحافیوں کو اپنا کام کرنے دو، یہ غیر قانونی گرفتاریاں بند کرو‘‘ کے نعرے کے تحت احتجاج کیا۔

سویڈن کے وزیر خارجہ اور ڈیگنز ای ٹی سی اخبار کے ادارتی عملے کے مطابق احتجاج کی کوریج کے لیے ترکیہ پہنچنے پر جمعرات کو ایک سویڈش صحافی کو گرفتار کر لیا گیا۔ سویڈش اخبار نے بعد میں اطلاع دی کہ اس کے نامہ نگار یوآخم میڈین کو گرفتاری کے بعد قید کر دیا گیا ہے۔ ترک میڈیا نے بتایا کہ ان پر "صدر کی توہین" اور "مسلح دہشت گرد تنظیم" سے تعلق رکھنے کا الزام ہے۔

"Dagnes ETC" کے چیف ایڈیٹر آندریاس گسٹافسن نے پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘ پر لکھا"میں جانتا ہوں کہ یہ الزامات 100 فیصد جھوٹے ہیں،" ۔ انہوں نے ایجنسی فرانس پریس کو ایک ٹیکسٹ پیغام میں تصدیق کی کہ یوآخم میڈین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ سویڈش وزیر خارجہ ماریا مالمر سٹینرگارڈ نے کہا ہے کہ ملک ان کی گرفتاری کے معاملے کو "سنجیدگی سے" لے رہا ہے۔

یوآخم میڈین کی گرفتاری اس کے چند گھنٹے بعد ہوئی ہے جب حکام نے پیر کو احتجاج کی کوریج کرنے پر گرفتار کیے گئے 11 صحافیوں کو رہا کیا تھا۔ ان رہا ہونے والوں میں اے ایف پی کے فوٹوگرافر یاسین اکگل بھی شامل تھے۔ استنبول بار ایسوسی ایشن کے مطابق 22 سے 25 مارچ کے درمیان 20 نابالغوں کو گرفتار کیا گیا جن میں سات ایسے ہیں جنہیں جمعہ کو بھی حراست میں رکھا گیا تھا۔

غیر معمولی احتجاج

واضح رہے ترکیہ کی حکومت نے جمعرات کو 19 مارچ سے حکام کی طرف سے ممنوعہ مظاہروں کے دوران تقریباً دو ہزار افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔ ان میں سے 260 کو جمعرات کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 2013 میں استنبول کے تکسم سکوائر سے شروع ہونے والی گیزی احتجاجی تحریک کے بعد سے ملک کو اب ان غیر معمولی مظاہروں کا سامنا ہے۔

یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب ترکی کی ایک عدالت نے گزشتہ اتوار کو یہ فیصلہ سنایا کہ صدر رجب طیب ایردوان کے سب سے نمایاں سیاسی حریف امام اوگلو کو بدعنوانی کے الزامات پر زیر التوا مقدمے کی سماعت کے دوران قید کیا جائے۔ اس فیصلے سے ملک میں ایک دہائی سے زائد عرصے میں سب سے بڑا احتجاج شروع ہوگیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں