ٹرمپ کے وکلاء کی فلسطینی کارکن کا مقدمہ لوزیانا منتقل کرنے کی کوشش

فلسطینی حامی مظاہرین کی گرفتاریاں اور ملک بدری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکی حکومت کے وکلاء نے جمعہ کو ملک بدری کے لیے ایک فلسطینی حامی احتجاجی رہنما کا کیس لوزیانا کی عدالت میں منتقل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ یہ عدالت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت گیر امیگریشن کریک ڈاؤن کی ہمدرد سمجھی جاتی ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے گریجویٹ طالبِ علم محمود خلیل کو اس ماہ کے شروع میں گرفتار کر کے لوزیانا لے جایا گیا جو احتجاج کی وجہ بنا۔ محمود خلیل غزہ جنگ کے خلاف ردِ عمل میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کا ایک نمایاں چہرہ تھے۔

کئی دیگر غیر ملکی طلباء مظاہرین کو بھی اسی طرح نشانہ بنایا گیا ہے۔

آئیوی لیگ سکول نے طلبہ کے احتجاج پر ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے اقدامات کے ایک پیکیج کا اعلان کیا اور کیمپس پر مبینہ طور پر یہود دشمنی کا الزام لگایا جس کے ایک ہفتے بعد جمعہ کو ہی کولمبیا یونیورسٹی کی عبوری صدر نے استعفیٰ دے دیا۔ ٹرمپ نے سکول کی اعانت میں کروڑوں کی کٹوتی کر دی تھی۔

کولمبیا نے ایک بیان میں کہا کہ کترینہ آرمسٹرانگ کی جگہ بورڈ آف ٹرسٹیز کی شریک چیئر کلیئر شپ مین سنبھالیں گی جو مستقل متبادل کی خدمات حاصل ہونے تک کام انجام دیں گی۔

بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئر ڈیوڈ گرین والڈ نے کہا، "ڈاکٹر آرمسٹرانگ نے یونیورسٹی کے لیے انتہائی غیر یقینی صورتِ حال کے وقت عبوری صدر کا عہدہ قبول کیا اور ہماری کمیونٹی کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے انتھک محنت کی۔"

جبکہ شپ مین نے ان کی "سنگین چیلنجز کی واضح فہم" کو نوٹ کیا۔

حکومت نے خلیل پر کسی جرم کا الزام نہیں لگایا بلکہ ان کی ملک بدری کا حکم دیا اور ان کا رہائش کا اجازت نامہ یہ الزام لگاتے ہوئے منسوخ کر دیا کہ وہ امریکی خارجہ پالیسی کو کمزور کر رہے تھے۔

نیو جرسی میں ایک سماعت کے دوران سرکاری وکیل اگست فلینجے نے کہا کہ "دائرہ اختیار کی یقین دہانی کے لیے یہ کیس لوزیانا سے تعلق رکھتا ہے۔"

لیکن خلیل کے وکیل بحر اعظمی نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اپنی "انتقام کی خواہش" کو تقویت دینے کے لیے کیس کو منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جج نے کہا کہ وہ کیس کو مغربی ضلع لوزیانا کے ایک زیادہ قدامت پسند بنچ کو منتقل کرنے پر فوری طور پر فیصلہ نہیں کریں گے جو ٹرمپ کی پالیسیوں کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔

خلیل سماعت میں موجود نہیں تھے تاہم ان کی اہلیہ نور نے کئی حامیوں کے ساتھ شرکت کی۔

خلیل کی گرفتاری نے ٹرمپ کے مخالفین، آزادی اظہار رائے کے حامیوں، اور دائیں بازو کے بعض سیاسی لوگوں کو مشتعل کر دیا ہے جنہوں نے کہا ہے کہ اس کیس سے اظہار رائے کی آزادی کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

امیگریشن افسران نے اسی طرح ٹفٹس یونیورسٹی کی ترک طالبہ رومیسا اوزترک اور کولمبیا کے طالب علم یونسیو چنگ کو حراست میں لیا اور ملک بدر کرنے کی کوشش کی ہے۔ چنگ اصل میں جنوبی کوریا سے امریکہ کے مستقل رہائشی ہیں۔

خلیل کی طرح اوزترک کو بھی شمال مشرقی ریاست میساچوسٹس میں ابتدائی طور پر گرفتار کرنے کے باوجود لوزیانا میں حراست میں رکھا گیا ہے۔

نقاب پوش، سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کی نقاب پوش طالبہ کو حراست میں لینے کی آن لائن زیرِ گردش فوٹیج کے بعد اوزترک کے وکیل نے جمعرات کو کہا،"جس طرح (افسران) نے دن کی روشنی میں رومیسا کو اغوا کیا، اس سے ہم سب کو خوفزدہ ہونا چاہئے۔"

میساچوسٹس میں ایک وفاقی جج نے جمعے کے روز ایک عدالتی حکم جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ "اس عدالت کی جانب سے تا حکمِ ثانی اوزترک کو امریکہ سے نہ نکالا جائے" جبکہ ان کے اس کیس کا دائرہ اختیار زیرِ غور ہے۔

کالج اور اس کے طلباء کے خلاف کارروائی کے تناظر میں کولمبیا کے طلباء نے ماحول کو پریشان کن قرار دیا ہے۔

غزہ جنگ بندی اور کولمبیا کے اسرائیل سے مالی روابط منقطع کرنے کے مطالبے پر گذشتہ سال کے احتجاج میں شرکت کرنے والے ایک ہسپانوی-امریکی طالب علم نے کہا، "کوئی چیز آپ کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ میں احتیاطی تدابیر اختیار کرتا ہوں، میں چیک کرتا ہوں کہ کوئی میرا تعاقب تو نہیں کر رہا۔ پہلے میں اپنے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھلا چھوڑ دینے سے نہیں ڈرتا تھا؛ اب اگر کوئی ایجنٹ میرا سامان چیک کرنے کے لیے آئے تو میں اسے لاک کر دیتا ہوں۔"

کولمبیا میں پولیٹیکل تھیوری کی پروفیسر نادیہ اربناتی نے اے ایف پی کو بتایا، "مقالات لکھنا، پڑھانا، نئی تحقیق کرنا، محققین یا فیلوز کے ساتھ کام کرنا زیادہ محدود ہو گیا ہے اور اس کی نگرانی ہو رہی ہے۔"

انتقامی کارروائی کے خوف سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے والے ایک غیر ملکی طالب علم نے کہا، ٹرمپ نے حقوق کارکنان کو "تنہا" کرنے کی کوشش کی۔

ایک اور نے کہا، "ہم ہنسنے کی کوشش کرتے ہیں" لیکن "خوف اور اضطراب کا احساس بہت وسیع ہے۔"

نیو جرسی کورٹ ہاؤس کے باہر درجنوں افراد نے فلسطینی پرچم اور بینرز کے ساتھ خلیل کی حمایت میں احتجاج کیا۔

کولمبیا یونیورسٹی میں غیر ملکی طلباء کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ٹرمپ انتظامیہ نے کیمپس میں مبینہ طور پر یہود دشمنی پر وفاقی فنڈ اور امداد میں 400 ملین ڈالر کٹوتی کی کوشش کی ہے۔

گذشتہ ہفتے یونیورسٹی نے ٹرمپ کو راضی کرنے کے لیے اقدامات کے ایک پیکیج کا اعلان کیا جس میں "تادیبی عمل میں بہتری" بھی شامل ہے۔

کولمبیا نے کہا کہ چیلنج کیے جانے پر مظاہرین کو اپنی شناخت ظاہر کرنا ہو گی چاہے وہ ماسک ہی پہنیں جیسا کہ کئی لوگوں نے فلسطین کے حامی مظاہروں کے عروج کے دوران کیا تھا۔

اس نے اپنی سکیورٹی ٹیم کی توسیع کا بھی اعلان کیا جس میں یونیورسٹی کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ہٹانے یا گرفتار کرنے کے لیے 36 بااختیار افسران کی خدمات بھی شامل ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے یونیورسٹی سے بیرونی نگران تعینات کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن سکول نے اس کی بجائے اس معاملے پر بیرونی ماہرینِ تعلیم کے ساتھ بات چیت کرنے کا عہد ہی ظاہر کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں