امریکہ-اسرائیل کے فضائی حملوں کا خدشہ: میکرون کا ایران پر مرکوز غیر معمولی اجلاس

صدر ٹرمپ کا ایران پر جوہری مذاکرات کے لیے شدید دباؤ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

تین سفارتی ذرائع نے بتایا کہ تہران اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے بدھ کے روز اہم وزراء اور ماہرین کا اجلاس طلب کیا جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔

کسی خاص موضوع کے لیے وقف کابینہ کا اس طرح کا اجلاس غیر معمولی ہے اور واشنگٹن کے یورپی اتحادیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر ہوائی حملے کر سکتے ہیں اگر اس کے جوہری پروگرام پر فوری مذاکراتی معاہدہ نہ ہو۔

پینٹاگون نے منگل کو کہا کہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے شرقِ اوسط میں مزید جنگی طیارے بھیج کر امریکی فوجی صلاحیت کو مزید تقویت بخشی ہے۔ یہ پیش رفت یمن کے زیادہ تر حصے پر قابض حوثیوں کے خلاف امریکی بمباری مہم کے درمیان ہوئی ہے۔

ایک سینئر یورپی اہلکار نے کہا کہ یورپی جنگی ماہرین خود سے پوچھ رہے ہیں کہ آیا یہ مہم آئندہ مہینوں میں ایران پر امریکی حملے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ایرانی راہنمائے اعلیٰ علی خامنہ ای سے مذاکرات میں فوری شمولیت پر زور دینے والے ٹرمپ نے اتوار کے روز ایران کو دھمکی دی کہ اگر اس نے اپنے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ نہ کیا تو اس پر بمباری ہو گی اور ثانوی نوعیت کے محصولات عائد کیے جائیں گے۔ مغربی ممالک ایران پر جوہری ہتھیاروں کے حصول کا الزام لگاتے ہیں۔

اسرائیل کے وزیرِ خارجہ جمعرات کو پیرس میں ہوں گے۔ سفارتی ذرائع نے بتایا کہ فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے وزراء کو امید ہے کہ اس ہفتے برسلز میں نیٹو کے وزارتی اجلاس میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ایران کے بارے میں بات ہو گی۔

فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے حالیہ مہینوں میں ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی ہے تاکہ اسے اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت میں دوبارہ شامل کیا جا سکے۔

انہوں نے گذشتہ ہفتے تکنیکی سطح سمیت ایران کے ساتھ مذاکرات کے کئی ادوار کیے ہیں تاکہ کسی نہ کسی معاہدے کی بنیاد رکھی جائے۔

لیکن سفارت کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ابتدائی طور پر "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کے طریقے پر توجہ مرکوز کی ہے اور یورپیوں نے ہم آہنگی کو پیچیدہ پایا ہے۔

یورپی طاقتوں نے ایران کو اس بات پر راضی کرنے کی امید ظاہر کی تھی کہ وہ اپنی جوہری سرگرمیوں پر مذاکرات شروع کر دے تاکہ اس سال اگست تک کوئی معاہدہ ہو جائے کیونکہ 2015 کے معاہدے کی میعاد اکتوبر 2025 میں ختم ہونے والی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں