تہران کو امریکی دھمکیاں دی جارہی ہیں، اسی دوران اسرائیلی سیاست دانوں اور فوجی عہدیداروں نے یہ انکشاف کردیا ہے کہ امریکہ آنے والے ہفتوں میں ایران میں ایٹمی تنصیبات پر حملے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اسرائیلی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کو بتایا کہ یہ "یہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا، اب وقت آگیا ہے کہ اسے ختم کیا جائے۔"
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، جنہوں نے ایرانی حکام سے اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا، کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ یہ احمقانہ مطالبات نہیں ہیں۔ یہ اسرائیل اور دنیا میں استحکام کے لیے بہت ضروری ہے۔
ایران سے نمٹنے کا بہترین لمحہ
اسرائیلی سفارتی حلقوں کے ایک ذریعے نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ اسرائیل کی قیادت ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کو ایران کے ساتھ نمٹنے کا بہترین لمحہ سمجھتی ہے۔ اس کے پاس ایسا دوسرا موقع نہیں آئے گا۔
ادھر ایک اسرائیلی فوجی عہیدار نے کہا ہے کہا ہے گزشتہ سال کے دوران شام، ایران اور عراق پر اسرائیلی طیاروں کی طرف سے کیے گئے حملوں نے ایرانی پراکسیوں کے فضائی دفاعی نظام کے خلاف ایک بڑے فضائی آپریشن کو انجام دینے کی راہ میں حائل بنیادی رکاوٹوں کو ہٹا دیا ہے۔
اخبار نے نشاندہی کی ہے کہ بحیرہ ہند میں ڈیاگو گارشیا کے جزیرے پر امریکی- برطانوی فوجی اڈے پر B2 سپرٹ سٹریٹجک بمبار طیاروں کی منتقلی ایران پر حملہ کرنے کی امریکی تیاریوں کا ثبوت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اس جزیرے پر اس قسم کے سات طیارے ہیں اور ایندھن بھرنے والے طیارے الگ سے ہیں۔
ٹرمپ کی دھمکیاں
گزشتہ اتوار کو ٹرمپ نے ایٹمی مذاکرات کرنے کی ان کی پیشکش کو قبول نہ کرنے کی صورت میں ایران پر بمباری کرنے کی اپنی دھمکی کی تجدید کی تھی ۔ مارچ کے اوائل میں ایرانی قیادت کو بھیجے گئے ایک خط میں انہوں نے تہران کو اس حوالے سے دو ماہ کا وقت دیا تھا۔
دریں اثنا ایرانی رہنما علی خامنہ ای نے پیر کو کہا تھا کہ اگر واشنگٹن نے ان پر حملہ کیا تو اسے زوردار تھپڑ لگے گا۔ ایرانی حکام نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی ایک خط بھیجا ہے جس میں انہوں نے ان دھمکیوں کے بارے میں شکایت کی جو کہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
بالواسطہ مذاکرات
ایران نے گزشتہ ہفتے ٹرمپ کے اس پیغام کا جواب دیتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست بات چیت سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم اس نے مذاکرات کا دروازہ مستقل طور پر بند نہیں کیا اور کہا کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام پر بالواسطہ طور پر یعنی کسی تیسرے ملک کے ذریعے بات چیت کو ترجیح دے گا۔
-
امریکہ-اسرائیل کے فضائی حملوں کا خدشہ: میکرون کا ایران پر مرکوز غیر معمولی اجلاس
صدر ٹرمپ کا ایران پر جوہری مذاکرات کے لیے شدید دباؤ ہے
بين الاقوامى -
ایران کی بالواسطہ جوہری مذاکرات کی پیشکش: ٹرمپ کا سنجیدگی سے غور: ایگزیاس
گذشتہ دنوں ٹرمپ ایران پر حملے کی دھمکی دے چکے ہیں
بين الاقوامى -
ہم نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں جاری کی ہیں:امریکی وزارت خزانہ
امریکی محکمہ خزانہ نے اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے منگل کو ایران پر ...
بين الاقوامى