چین گھبراہٹ کا شکار ہوگیا: چینی جوابی ٹیرف پر ٹرمپ کا تبصرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

چین کی جانب سے امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کیے جانے پر امریکی صدر ٹرمپ نے تبصرہ کیا ہے کہ چین کا یہ رد عمل اس کی گھبراہٹ کی عکاسی کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے مالیاتی منڈیوں میں تیزی سے گراوٹ کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ ٹروتھ سوشل‘‘ پر انہوں نے لکھا کہ چین نے ایک غلطی کی ہے، وہ گھبرا گئے اور یہ واحد چیز ہے جو وہ برداشت نہیں کر سکتے۔ واضح رہے امریکہ کی جانب سے ٹیرف عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے تمام امریکی اشیا پر 34 فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ واضح رہے امریکی انتظامیہ نے ان ممالک کو انتباہ کیا تھا کہ وہ کسٹم ڈیوٹی کا جواب نہ دیں۔ چینی وزارت تجارت نے الیکٹرانک مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہونے والے گیڈولینیم اور یٹریئم سمیت سات نادر زمینی عناصر کی امریکہ سے برآمد پر بھی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

جمعہ کے روز چین کے ردعمل نے مالیاتی منڈیوں میں نقصانات کو بڑھا دیا ہے۔ بدھ کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دنیا بھر کے ملکوں کی مصنوعات پر ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد عالمی سٹاک مارکیٹس میں پہلے ہی مندی کا رجحان تھا۔ چینی رد عمل نے اس مندی کو مزید تیز کردیا۔

پالیسیاں کبھی نہیں بدلیں گی

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر مالیاتی منڈیوں میں اس گراوٹ کی سنگینی کو کم بیان کیا جس سے عالمی تشویش کی عکاسی ہو رہی ہے۔ ٹرمپ نے ’’ ٹروتھ سوشل‘‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ آنے والے بہت سے سرمایہ کاروں کے لیے بڑی رقم کی سرمایہ کاری کرنے کے لیے میری پالیسیاں کبھی نہیں بدلیں گی۔ یہ امیر بننے کا وقت ہے، پہلے سے زیادہ امیر ہونے کا وقت ہے۔

انہوں نے فیڈرل ریزرو سے شرح سود کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے اقتدار میں واپسی کے بعد سے افراط زر پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم دوسری طرف مانیٹری اسٹیبلشمنٹ کے سربراہ نے چند منٹ بعد امریکی معیشت کے نئے امکانات کی ٹیرف کے ساتھ ایک تاریک تصویر پینٹ کی۔ انہوں نے جی ڈی پی کی ترقی میں ممکنہ کمی، مزید افراط زر اور بے روزگارہی کا عندیہ دیا۔

ایک دن پہلے وال سٹریٹ میں خوف و ہراس کی ہوائیں چل پڑی تھیں جہاں امریکی خاندان اپنی بچتوں پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے تھے۔ وہ کمپنیاں، جن سے سرمایہ کار دستبردار ہو رہے ہیں، ایسی ہیں جو ایشیا سے درآمدات پر انحصار کی وجہ سے خطرہ میں ہیں۔

نئے محصولات خاص طور پر چین کے لیے قابل تعزیر ہیں۔ ان کی مصنوعات پر کل ٹیکس 54 فیصد، کمبوڈیا پر 49 فیصد، ویت نام پر 46 فیصد اور بنگلہ دیش پر 37 فیصد تک بڑھایا گیا ہے۔

اس تناظر میں ٹرمپ نے جمعہ کے روز انکشاف کیا کہ انہوں نے ویتنام کے سپریم رہنما، کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل ٹو لام کے ساتھ ٹیرف کے حوالے سے بہت تعمیری بات چیت کی ہے۔

عالمی تجارتی جنگ کا خدشہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے عائد کردہ محصولات نے عالمی تجارتی جنگ کا خدشہ پیدا کر دیا ہے کیونکہ 180 سے زیادہ ممالک اور خطوں نے خود کو باہمی محصولات کے دائرے میں شامل ہوتا ہوا پایا ہے۔ یہ قدم ٹرمپ کی پالیسی کے فریم ورک کے اندر آیا ہے جس کا مقصد امریکی صنعتوں کو غیر ملکی مسابقت سے بچانا ہے۔ تاہم امریکہ کو عالمی رہنماؤں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں