شام کی نئی انتظامیہ کی جانب سے سابق صدر بشار الاسد کے دور میں جمع ہونے والے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو تلف کرنے کے وعدے کے بعد وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے گزشتہ ماہ دی ہیگ میں کیمیاوی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کے سامنے دی گئی ایک تقریر کی جس کے بعد یہ مسئلہ ایک بار پھر منظر عام پر آ گیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایک نئی امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خصوصی معائنہ کاروں نے اندازہ لگایا ہے کہ شام میں ان ہتھیاروں کے 100 مقامات ہیں۔ ان ہتھیاروں کے مقامات کا سیٹلائٹ کے استعمال سے بھی تعین کرنا مشکل ہے۔ یہ تعداد کسی بھی سابق اندازے سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ صورت حال نئی حکومت کے لیے ایک امتحان بن سکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ماہرین کو خدشہ ہے کہ سارین، کلورین اور مسٹرڈ گیس کا ذخیرہ محفوظ نہیں ہے۔ یہ تعداد اپنی نوعیت کا پہلا تخمینہ ہے اور یہ اس تعداد سے کہیں زیادہ ہے جس کا پچھلی حکومت نے اعتراف کیا تھا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم شام میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ بشار الاسد کے بدنام زمانہ فوجی پروگرام کی باقیات کیا ہیں۔ یہ بھی شبہ کیا جارہا ہے کہ ان مقامات کو کیمیائی ہتھیاروں کی تحقیق، تیاری اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ خاص طور پر اس لیے کہ بشار الاسد نے ایک دہائی سے زیادہ طویل جنگ کے دوران حزب اختلاف کے جنگجوؤں اور شامی شہریوں کے خلاف سارین گیس اور کلورین جیسے ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔
سائٹس کی تعداد اور ان کا محفوظ ہونا 8 دسمبر میں حزب اختلاف کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ اب یہی چیز نئی حکومت کے لیے ایک بڑے امتحان کی نمائندگی کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چیلنج ان ہتھیاروں کے خطرے سے متعلق ہے۔ یہ ہتھیار گنجان آباد علاقوں میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ سارن گیس ایک اعصابی ایجنٹ ہے اور منٹوں میں انسان کو مارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کلورین گیس اور مسٹرڈ گیس دو ایسے ہتھیار ہیں جو پہلی جنگ عظیم میں مشہور ہوئے تھے۔ یہ آنکھوں اور جلد کو جلا کر پھیپھڑوں کو سیال سے بھر دیتے ہیں۔ ماہرین اس امکان کے بارے میں فکر مند ہیں کہ کہیں مسلح گروپ کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات تک رسائی حاصل کرنے کے قابل نہ ہوجائیں۔
شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ
واضح رہے مارچ میں دی ہیگ میں کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کے ہیڈ کوارٹرز کا اچانک دورہ کرتے ہوئے اسعد الشیبانی نے اعلان کیا تھا کہ نئی حکومت بشار حکومت کے دور میں تیار کیے گئے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کی کسی بھی باقیات کو تباہ کر دے گی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے گی۔