میکرون کی جانب سے نقلِ مکانی اور غزہ، مغربی کنارے کے الحاق کی مخالفت

انہوں نے حماس کے بغیر نئی غزہ حکومت کی تجویز پیش کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیر کو قاہرہ کے دورے کے دوران کہا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی کسی بھی نقلِ مکانی یا غزہ اور اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے میں الحاق کے سخت مخالف ہیں۔

میکرون نے اپنے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کے دوران کہا، "ہم آبادیوں کی نقلِ مکانی اور غزہ اور مغربی کنارے دونوں کے کسی بھی الحاق کے سخت مخالف ہیں۔ یہ عمل بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور اسرائیل سمیت پورے خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہو گا۔"

میکرون نے کہا کہ فلسطینی گروپ حماس کا غزہ کی پٹی پر حکومت کرنے میں کوئی حصہ نہیں ہونا چاہیے اور جنگ سے تباہ شدہ علاقے کی تعمیرِ نو کے منصوبے کے لیے انہوں نے عرب لیگ کی حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا، "میں اس منصوبے پر مصر کے اہم کام کو سلام پیش کرتا ہوں جو غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ایک حقیقت پسندانہ راستہ پیش کرتا ہے اور اسے فلسطینی اتھارٹی کی زیرِ قیادت انکلیو میں نئی فلسطینی حکمرانی کے لیے بھی راہ ہموار کرنی چاہیے۔ حماس کا اس طرزِ حکمرانی میں کوئی کردار نہ ہو اور وہ اسرائیل کے لیے مزید خطرہ نہ بنے۔"

جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے باشندوں کو علاقے سے باہر منتقل کرنے کی تجویز پیش کی اور کہا تھا کہ مصر یا اردن انہیں اپنے ملک لے جا سکتے ہیں۔

دونوں ممالک نے دیگر عرب اتحادیوں، تمام دنیا کی حکومتوں اور خود فلسطینیوں کے ساتھ مل کر اس تصور کو واضح طور پر مسترد کر چکے ہیں۔

ٹرمپ بعد میں اس تجویز سے دستبردار ہوتے ہوئے نظر آئے اور کہا کہ وہ اس منصوبے کو "زبردستی" نافذ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں