غزہ:35 دنوں سے جاری ناکہ بندی، خوراک کے بحران میں شدت

شیر خواروں کے لیے دودھ کی فراہمی بھی چیلنج بن گئی ، یونیسف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل کو غزہ میں فلسطینی عوام کو بار بار بے گھر کرنے اور نقل مکانی پر مجبور کرنے کا منصوبہ کامیابی سے جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے حالیہ دنوں میں نئی نقل مکانی کے احکامات کے بعد اقوام متحدہ کے ادارے ' یونیسف' نے بھی بچوں کی خوراک کمی سے نمٹنے والے ادارے کی سرگرمیاں روک دی ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر ان مقاصد کے لیے 21 مراکز قائم کیے گئے تھے۔ لیکن غزہ میں جاری اسرائیلی جنگی جارحیت اور انخلا کے لیے جاری کردہ احکامات کے بعد یہ ممکن نہیں رہا تھا کہ یونیسف نامی ادارے عملاً مایوس ہو کر کام بند کر دیا ہے۔

یونیسف کے ترجمان کاظم ابو خلاف نے اتوار کے روز اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ' ہمارے مرکز کی بندش کا براہ راست تعلق اسرائیلی کارروائیوں کے ساتھ ہے۔ جو اسرائیل نے نئے سرے سے شروع کر رکھی ہیں۔

فلسطینی خبر رساں ادارے ' وفا ' کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا ' یونسف ان دنوں ایک اور منصوبے کے لیے کام کر رہا ہے جو غزہ میں خوارک کی کمی کا جائزہ لے رہا ہے۔ تاکہ غزہ میں اس سلسلے میں درپیش چیلنج کا جامع انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔

یونیسف کے مطابق اسرائیلی فوج نے پچھلے 35 دنوں سے غزہ میں خوارک کی ترسیل مکمل طور پر بند کر رکھی ہے۔ اسی طرح غزہ میں ادویات اور طبی سامان کی ترسیل بھی روکی ہوئی ہے

یاد رہے ہفتے کے روز یونیسف نے دس لاکھ بچوں کے بارے میں ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ بچے زندگیاں بچانے کی سہولت سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس لیے ان کی زنگیاں سخت خطرے میں ہیں۔ جبکہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلسل خوراک اور اودویات کی ترسیل تک روکے ہوئے ہے۔

یونیسف نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس کے پاس ہزاروں کی تعداد میں امدادی تھیلے پڑے ہیں مگر انہیں غزہ میںمنتقل کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ جبکہ بچوں کی خوراک کے چیلنج کاماب شیر خوار بچوں کے لیے دودھ کی ترسیل کا معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے ۔ اس وقت یونیسف کے پاس صرف چار سو شیر خوار بچوں کے لیے دودھ کی دستیابی ممکن رہ گئی ہے۔

واضح رہے ماہ مارچ کے دوران سے غزہ میں جاری انسانی بحران شدت پکڑ چکا ہے۔ ماہ مارچ کے آغاز میں اسرائیل نے نئی جنگی جارحیت شروع کرنے کے لیے پہلے ناکہ بندی سخت کی اور خوراک تک کی ترسیل روک دی۔ بعد ازاں 18 مارچ سے دوبارہ جنگ شروع کر دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں