امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز، سیمی کنڈکٹرز اور دیگر کئی ٹیکنالوجی آلات و لوازمات کو اپنے عائد کردہ متبادل کسٹم ٹیرف سے مستثنیٰ قرار دیا۔ اس استثناء میں تقریباً 390 ارب ڈالر کی امریکی درآمدات شامل ہیں، جن میں 101 ارب ڈالر سے زائد کی درآمدات چین سے ہیں۔ یہ بات RAND چائنا ریسرچ سینٹر نے بتائی۔
مرکز کے مطابق چین سے امریکا آنے والی مجموعی مصنوعات میں اسمارٹ فون کا تناسب تقریبا 9% ہے۔
سال 2024 میں امریکا میں کمپیوٹرز اور اس سے ملتے جلتے آلات کی درآمدات کا حجم 36 ارب ڈالر سے زیادہ رہا۔
اس سے قبل رواں ماہ ٹرمپ نے چین سے آنے والی درآمدات پر 145% کسٹم ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام نے "ایپل" جیسی بڑی کمپنیوں کو نقصان کے خطرے سے دوچار کر دیا تھا جو آئی فون اور اپنی اکثر دیگر مصنوعات کی تیاری میں بڑی حد تک چین کی مصنوعات پر انحصار کرتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ اس استثناء کا مقصد امریکی کمپنیوں کو کافی مہلت دینا ہے تا کہ وہ امریکا کے اندر مصنوعات کی تیاری کا انتظام کر لیں۔
چین نے ٹرمپ کی جانب سے کسٹم ٹیرف عائد کیے جانے کے جواب میں امریکی مصنوعات پر ٹیرف کی شرح 84% سے بڑھا کر 125% کر دی تھی۔
چینی وزارت تجارت کے مطابق اگر امریکہ نے ٹیرف میں اضافہ جاری رکھا، تب بھی اس کا کوئی اقتصادی فائدہ نہیں ہو گا، بلکہ اسے عالمی معیشت کی تاریخ میں ایک مضحکہ خیز موقف کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اگر امریکی حکومت چین پر ٹیرف میں اضافہ جاری رکھتی ہے، تو بیجنگ کی جانب سے اس کا جواب صرف نظرانداز کرنے کی صورت میں ہو گا۔
-
امریکی ٹیرف نے عالمی معیشت کے استحکام پر ضرب لگائی ہے: ریاض میں چینی سفیر
سعودی عرب میں چین کے سفیر چانگ ہوا نے زور دیا ہے کہ امریکا کی جانب سے یک طرفہ طور ...
ایڈیٹر کی پسند -
ٹرمپ کی بڑی پسپائی، سمارٹ فونز اور کمپیوٹرز کو ٹیرف سے استثنیٰ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے الیکٹرانکس مصنوعات کی درآمدات پر عائد مجوزہ ٹیرف ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب اور چین کثیر قطبی دنیا کے اہم ممالک ہیں: چینی عہدیدار
ایک چینی عہدیدار نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ان کے ملک کے تعلقات کو فروغ دینا ...
بين الاقوامى