چین کے رہنما شی جن پنگ نے جنوب مشرقی ایشیا میں سفارت کاری کے ایک ہفتے کا آغاز پیر کو ویتنام کے دورے سے کیا جس سے عالمی تجارت کے لیے چین کے عزم کا اشارہ ملتا ہے۔ ان کا یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے محصولات کے اقدام کے فوراً بعد ہے۔
اگرچہ ٹرمپ نے کچھ محصولات موقوف کر دیئے ہیں لیکن چین پر 145 فیصد محصولات برقرار ہیں جو دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔
سنگاپور کے آئی ایس ای اے ایس-یوسف اسحٰق انسٹی ٹیوٹ کے وزٹنگ فیلو نگوین گیانگ نے کہا، اس ہفتے شی کے دورے سے چین نے جنوب مشرقی ایشیا پر ظاہر کر دیا ہے کہ وہ "ایک ذمہ دار سپر پاور ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی سپر پاور سے مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔"
چین اپنے اتحاد کو مضبوط بنانے اور اعلی تجارتی رکاوٹوں کا حل تلاش کرنے کے لیے بھی کام کر سکتا ہے جو امریکہ نے چینی برآمدات پر عائد کر دیا ہے۔
شی نے ویتنامی اور چینی سرکاری میڈیا میں مشترکہ طور پر شائع ہونے والے اداریئے میں لکھا، "تجارتی جنگ یا محصولات کی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہے۔ دونوں ممالک کو کثیر فریقی تجارتی نظام، مستحکم عالمی صنعتی اور سپلائی چین اور کشادگی اور تعاون پر مبنی بین الاقوامی ماحول کی حفاظت کرنی چاہیے۔"
وہ پیر کو ہانوئی پہنچے اور سرکاری دورے پر دو دن تک ویتنام میں رہیں گے۔
اگرچہ شی کا دورہ ممکنہ طور پر پہلے سے طے شدہ تھا لیکن یہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں چین اور امریکہ کے درمیان محصولات کی جنگ کے باعث زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ ویتنام میں شی جن پنگ ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری ٹو لام کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم فام من چن سے ملاقات کریں گے۔
گیانگ نے کہا، "ویتنام، ملائیشیا اور کمبوڈیا کا دورہ اس سلسلے میں ہے کہ چین واقعی خود کو ٹرمپ سے کیسے بچا سکتا ہے۔" انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ جب سے شی 2013 میں چین کے صدر بنے ہیں، انہوں نے صرف دو بار ویتنام کا دورہ کیا ہے۔ یہ ان کا تیسرا دورہ ہے اور دسمبر 2023 میں آخری بار دورہ کرنے کے ٹھیک ایک سال بعد ہوا ہے۔
بین الاقوامی کرائسز گروپ کی ہوونگ لی تھو نے کہا، اس دورے کا وقت ایک "مضبوط سیاسی پیغام بھیجتا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا چین کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا، ٹرمپ کے محصولات کی شدت کے پیشِ نظر اور 90 دن کے وقفے کے باوجود جنوب مشرقی ایشیائی ممالک فکرمند ہیں کہ نافذ ہونے کی صورت میں محصولات ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "شی کا دورہ یہ ظاہر کرنے کے لیے ہے کہ چین کس طرح زبردستی کرنے والے اور اپنے ہی مفادات کا خیال رکھنے والے امریکہ کے برعکس ہے۔ اس بارے میں بہت زیادہ توقعات ہوں گی کہ چین بحران کے اس وقت کس قسم کی قیادت اور اقدامات کے ساتھ سامنے آئے گا۔"
ویتنام امریکہ اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھنے کا تجربہ رکھتا ہے۔ یہ چین جیسے کمیونسٹ اور یک جماعتی نظام کے تحت چلتا ہے لیکن امریکہ کے ساتھ اس کے مضبوط تعلقات ہیں۔
یہ 2023 میں واحد ملک تھا جس نے امریکی صدر جو بائیڈن اور چین کے شی جن پنگ دونوں کا استقبال کیا۔ اس سال چین اور روس کی طرح یہ امریکہ کو بھی اپنی اعلیٰ ترین سفارتی سطح پر لایا۔
چین اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق 2024 میں چین-ویت نام تجارت میں سال بہ سال 14.6 فیصد اضافہ ہوا۔
لیکن سنگاپور کے آئی ایس ای اے ایس-یوسف اسحٰق انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ کار گیانگ نے کہا، امریکہ میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ویتنام چینی سامان کے لیے خفیہ دروازے کے طور پر کام کر رہا ہے جس نے تجارتی جنگ کی شدت نے ویتنام کو ایک "انتہائی نازک صورتِ حال" سے دوچار کر دیا ہے۔
ویتنام کو 90 دن کے وقفے سے قبل ٹرمپ کے حکم کے تحت 46 فیصد ٹیرف کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
چین اور ویتنام کے درمیان حقیقی طویل المدتی اختلافات ہیں۔ ان کے درمیان بحیرۂ جنوبی چین کے علاقے پر تنازعات ہیں اور ویتنام کا چین کے ساحلی محافظوں سے مقابلہ ہوا ہے لیکن وہ اکثر اس تصادم کی تشہیر نہیں کرتا۔
ویتنام کے بعد شی کے ملائیشیا اور پھر کمبوڈیا جانے کی توقع ہے۔
-
ٹرمپ نے چین سے 101 ارب ڈالر کی درآمدات کو ٹیرف سے چھوٹ دے دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز، سیمی کنڈکٹرز اور دیگر کئی ...
بين الاقوامى -
فنڈنگ کا خاتمہ، امریکہ کے شرق اوسط کے لیے نیوز چینل کا سٹاف فارغ
امریکی امداد سے چلنے والے عربی کے نیوز چینل اور اس کے عربی 'آؤٹ لیٹ' سے وابستہ ...
بين الاقوامى -
ایرانی جوہری مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں امریکہ فوجی حکمت عملی تیار کرے:اسرائیل کا اصرار
اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر زور دے رہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری ...
مشرق وسطی