یمن اور حوثی

بندرگاہ پر حملوں کا مقصد حوثیوں کی معاشی قوت کمزور کرنا ہے : واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حوثیوں کے زیر انتظام میڈیا نے آج جمعے کے روز بتایا ہے کہ یمن کے صوبے الحدیدہ میں واقع رأس عیسیٰ بندرگاہ پر امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری آپریشن میں امریکی جنگی طیاروں کی تازہ ترین کارروائی ہے۔

حوثی میڈیا کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ ہے کیوں کہ کئی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔ العربیہ نیوز کے نمائندے کا کہنا ہے کہ رات سے اب تک بندرگاہ پر کیے گئے حملوں کی تعداد 14 ہو چکی ہے۔

ادھر امریکی مرکزی کمان کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد حوثیوں کی معاشی طاقت کے اہم ذریعے کو ختم کرنا ہے۔ یہ حملے اب تک کی سب سے زیادہ ہلاکت خیز کارروائیوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں 15 مارچ سے شروع ہونے والی ایک بڑی مہم کا حصہ ہیں، جس میں سیکڑوں فضائی حملے کیے جا چکے ہیں۔

مرکزی کمان کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ان حملوں کا مقصد یمنی عوام کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ حوثیوں کی غیرقانونی آمدنی کے ذرائع کو ختم کرنا ہے۔ یہ آمدنی گذشتہ 10 برسوں سے پورے خطے میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

امریکی فضائی مہم کا آغاز اس وقت ہوا جب حوثیوں نے عالمی بحری جہاز رانی پر دوبارہ حملے شروع کرنے کی دھمکی دی۔ بالخصوص اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر دوبارہ حملوں کے بعد ... ان حملوں نے 18 مارچ کو دو ماہ سے جاری جنگ بندی ختم کر ڈالی تھی۔

حوثیوں نے بھی 15 مارچ کے بعد امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں پر حملے دوبارہ شروع کیے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے، حوثیوں نے اسرائیل اور اس سے منسلک سمجھے جانے والے بحری جہازوں پر درجنوں میزائل حملے کیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کو ختم کرنے کی دھمکی دی ہے، جب کہ امریکہ نے جمعرات کے روز یمنی بینک "بنك اليمن الدولي" پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ پابندیوں میں بینک کے اعلیٰ عہدے داران بھی شامل ہیں۔ یہ اقدام حوثیوں کو مالی مدد فراہم کرنے پر اٹھایا گیا ہے۔

ادھر فرانس کے وزیر دفاع سیباستین لوکورنو نے بھی جمعرات کی شب اعلان کیا کہ ایک فرانسیسی جنگی جہاز نے یمن سے بھیجے جانے والے ایک ڈرون طیارے کو تباہ کر دیا۔ انھوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر کہا کہ "ہماری افواج بین الاقوامی بحری نقل و حرکت کی آزادی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں