میلونی کی مترجم کی ہکلانے پر معذرت، ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس نے اسے الجھا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے لیے کام کرنے والی ایک مترجم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران ترجمانی کرنے میں بہ ظاہر دشواری کا سامنا کرنے کے بعد عوامی طور پر معافی مانگ لی ہے۔

ویلنٹینا مائیولینی روتھباکر نے ہفتے کے روز اطالوی اخبار ’کوریری ڈیلا سیرا‘ کو بتایا کہ "جو ہوا وہ سب سے بری چیز ہے جو ایک مترجم کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ یہ انتہائی شرمناک ہے"۔

میلونی روتھباکر نے کہاکہ "میلونی کا مجھے روکنا درست تھا۔ یہ ایک بہت اہم سیشن تھا اور ہر لفظ میں بہت زیادہ وزن تھا۔۔خوش قسمتی سے میں نے کچھ غلط نہیں کہا"۔

ٹاپ شاٹ - امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 17 اپریل 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی جمعرات کو واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر رہی ہیں، امید ہے کہ ذاتی جارحانہ کارروائی سے امریکی صدر کو EU میں مزید کٹوتی کے لیے قائل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ (تصویر از برینڈن سمیالوسکی / اے ایف پی)

ترجمان نے کہاکہ وہ پہلی بار وائٹ ہاؤس کا دورہ کر رہی تھی، کہ اسے کوئی مدد نہیں ملی۔ وہاں بہت شور تھا۔ تب ٹرمپ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہاکہ "براہ کرم، براہ کرم"۔ اس نے مزید کہا کہ اس سب نے مجھے الجھا دیا۔

ترجمان اکثر بین الاقوامی اجلاسوں میں موجود ہوتے ہیں، جہاں سیاسی رہنما اپنی مادری زبان کو عوام میں استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ انگریزی اچھی بولتے ہیں تب بھی وہ اپنی زبان ہی میں بات کرتے ہیں۔

یہ بات قابل غور ہے کہ مذکورہ مترجم کا وسیع تجربہ ہے اور اس نے کئی سربراہی اجلاسوں میں کام کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں