بھارتی فوج نے ہفتہ کو کہا ہے کہ بھارتی اور پاکستانی فوجیوں کے درمیان متنازعہ کشمیر میں دوسرے دن بھی تمام رات فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ یہ بیان پہلگام واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے لیے نئی دہلی نے اپنے روایتی حریف کو موردِ الزام قرار دیا۔ واقعے کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات نہایت کشیدہ ہیں۔
بھارتی فوج نے کہا کہ جمعہ سے ہفتہ کی درمیانی رات "کشمیر میں کنٹرول لائن کے اس پار" پاکستانی فوج کی "متعدد" چوکیوں سے چھوٹے ہتھیاروں سے "بلااشتعال" فائرنگ کی گئی۔
اس نے ایک بیان میں کہا، "بھارتی فوجیوں نے چھوٹے ہتھیاروں سے مناسب جواب دیا۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔"
پاکستان نے بھی ایسی کوئی فوری تصدیق نہیں کی تاہم فریقین نے گذشتہ رات اپنی اپنی افواج کے درمیان فائرنگ کی تصدیق کی۔
اقوامِ متحدہ نے حالیہ کشیدگی کے بعد ہمسایہ ممالک پر "زیادہ سے زیادہ تحمل" کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تناؤ کی اہمیت کم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک تنازعہ کو "کسی نہ کسی طح حل کر لیں گے۔"
"جوابی اقدامات"
کشمیر کے باغی گروپوں نے 1989 سے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مسلح جدوجہد کر رہے ہیں اور بھارت سے آزادی یا پاکستان سے الحاق کا مطالبہ کرتے ہیں۔
بھارتی سکیورٹی فورسز نے منگل کو پہلگام کے سیاحتی مقام پر 26 افراد کی ہلاکت کے ذمہ داروں کے لئے تلاشی کی ایک وسیع کارروائی شروع کی ہے اور بھارتی پولیس نے مفرور باغیوں میں دو پاکستانی شہریوں کا نام بھی شامل کیا ہے۔
جمعہ کو بھارتی فوجیوں نے تلاشی کے دوران کشمیر میں گھروں کو دھماکے سے اڑا دیا اور تین مردوں کے خاکوں کے ساتھ مطلوبہ پوسٹر جاری کیے۔
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا، "ہم کرۂ ارض کی آخری حدود تک دہشت گردوں کا تعاقب کریں گے۔"
ایک دن بعد پاکستان کی سینیٹ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں "پاکستانی حکومت کو بدنام کرنے کے لیے بھارتی حکومت کی مہم" کی مذمت کی گئی۔
اسلام آباد نے خبردار کیا، "پاکستان کی خودمختاری اور اس کے عوام کی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کا سخت جوابی اقدامات سے مقابلہ کیا جائے گا۔"
حملے کے ایک دن بعد نئی دہلی نے آبی تقسیم کا سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا۔
دوںو ں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف اقدامات کیے ہیں جن میں واہگہ بارڈر کی بندش، سفارتی عملے کی بے دخلی اور ویزوں کی منسوخی شامل ہیں۔
پاکستان نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ بھارت کی طرف سے دریائے سندھ سے پانی کی فراہمی روکنے کی کوئی بھی کوشش ’جنگ کی کارروائی‘ کے مترادف سمجھی جائے گی۔
بارڈر کی بندش کے اقدامات سے ان نایاب دوروں کا اچانک خاتمہ ہو گیا ہے جو کئی نسلوں سے جدا شدہ رشتہ دار ایک دوسرے کو دیکھنے کے لیے کرتے ہیں۔
واہگہ بارڈر پر پاکستان چھوڑنے والوں میں 39 سالہ غفار مسافر بھی شامل تھے جو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔
انہوں نے کہا، "میں بھارتی ہوں، مجھے بھارت سے محبت ہے لیکن میرا خاندان یہاں ہے۔ اور ایسا نہیں ہے کہ میں پاکستان سے نفرت کرتا ہوں، میں بھی پاکستان سے محبت کرتا ہوں۔"
ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت کی جانب سے ممکنہ فوجی جواب بدستور زیرِ غور ہو سکتا ہے۔